مارے حیرت ہمارا منہ یند کا بند رہ گیا ۔۔از؛ عالم آرا۔ وینکوور

عالم آرا ۔وینکوور

اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو دے ۔یہ ایک ایسی ضرب المثل ہے جس کو سمجھنے کی کوشش کرتے کرتے ھم تھک گئے تھے ۔ھماری سمجھ میں بس یھ نہیں آتا تھا کہ اندھے کو صرف اپنے کیسے نظر آتے ہیں ۔جیکہ وہ اندھج ہے ۔اللہ بھلا کرے ہماری بوا کا انہوں نے ہماری مشکل آسان کر دی کہنے لگیں “بیٹا تم تو بلا وزے ہلکان ہوتی ہو بھئی جو نا بینا اپنی کسمت سے ہے وہ تو اللہ کی مَر جِی مگر یہ جو سیاسی اندھے ہیں یہ تو ہاتھ لگا کر ہی ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں کہ یہ ہمارے ہیں ۔“ہم بوا کی بات سے بالکل مطمئن ہو گئے تھے اور آج ایک خبر پڑھ کر ہمیں یہ ضرب المثل بالکل فٹ بیٹھتی نظر آئی ۔

سنا ھے کہ حکومت نے یومِ آزای پر ملنے والے تمغے اس طرح تقسیم کر دئے ہیں کہ خود لینے والے بھی حیران ہونگے کہ کیا واقعئی ہم نے کوئی ایسا کام کیا ہے کہ اس کے اہل ٹہرے ؟ حالانکہ وہاٍ ں اہلیت کی تو کوئی بات ہی نہیں بس جس نے تعریف کل بلا چوں و چرا کے وہ ہر تمغے کا اہل ہو جاتا ہے ۔اسی طرح جو نام ہم نے فہرست میں پڑھے ہمارا وہ حال ہوا کہ مارے حیرت ہمارا منہ بند کا بند رہ گیا ھم نے یہاں یہ محاورہ بدلنے کی جسارت اس  لئے کی ہے کہ کہ آج کل کچھ بھی کر لو کوئی شُنوائی نہیں ہے کیونکہ پہلے ہمارا منہہ مارے حیرت کے کھلا کا کھلا رہ جاتا تھا ،تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔تو ہم نے سوچا کہ اب یہ بند ہی رہے تو بہتر ھے ۔کہ آج کل ہمارے ملک میں سب بند ہی بند چل رہا ہے ،پانی بند ،بجلی بند ،کھانا بند ،پینا بند لیکن یہ سب بندی بس کچھ علاقعوں کے لئے ہے جہاں کچھ بھی بند نہیں ہوتا وہاں کچھ بھی بند نہیں ہے ایسے خوش قسمت علاقعے بھی ہیں جہاں نہ پانی بند ھے نہ بجلی بند ھے اور کھانا پینا بھی کھلی چھوٹ ہے جتنا کھیسے میں پیسہ ہے اتنا ہی مزے اُڑاؤ اُن علاقعوں میں کھیسے بہت بھاری بھاری ہیں ۔اللہ غریبوں کے کھیسے میں بھی کچھ ڈال دے  آمین

ہم جب تک ان نا انصافیوں اور نا قدریوں پر آواز نہیں اُٹھائینگے ہر حکومت ایسے فیصلے کرتی رہے گی ۔ہم صرف جزباتی اور بڑھکی سیاست کرتے ہیں کبھی اپوزیشن چیختی ہے تو صرف اپنے مفاد کے لئے ۔کبھی کہتے ہیں ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں کبھے کہتے ہیں ہمیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا ۔لیکن اپنے اپنے منصب سے سارے جڑے ہوئے ہیں کوئی ایک ہمت نہیں کرتا اپنی کرسی چھوڑنے کی عجب بُلعجبی ہے چونسٹھ سال میں جو کچھ کیا یا ہوا سب دوسرون کے کھاتے میں دال رہے ہیں جبکہ ان چونسٹھ سالوں میں سب ہی موجود تھے اور اسی طرح عیش کر رہے تھے جس طرح آج کر رہے ہیں ۔حکومت میں تھے تو اپوزیشن کو وجھ بتا تے رہے ،حکومت سے باہر ہیں تو حکومت کو وجہ تباہی بتاتے ہیں ،حالانکہ تباہ کرنے والے سارے ہیں جو حکومت میں ہیں وہ بھی اور  ۔یہ چاہے ملک میں ہوں یا ملک سے باہر عیش ان کی قسمتوں میں لکھا ہے ہمیں ان کے عیش و عشرت سے کوئی کَد نہیں ہے ہمیں دُکھ ہے کہ ہم کہاں تک کاندھے تلاش کر کے خود کو بچاتے رہینگے ۔

اب بھی اگر ہمت نہ کی تو شاید یہ ایک لہر جو سوچ کی آئی ہے کہ جو غلط ہو رہا ہے وہ لوگوں کو غلط لگ بھی رہا ہے اور وہ اس کے خلاف بھی ہو رہے ہیں لیکن بے حسی اپنی جگہ ہے شور مچتا ہے مگر حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا ،حکومت جو کچھ کر رہی ہے حزب مخالف جو کچھ کر رہی ہے اس پر کوئی نہیں بولتا عوام بھی کانوں میں انگلیاں ڈالے بیٹھے ہیں کہ جو ہو رہا ہے ہونے دو ہمیں کیا ؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے ملک میں ہونے والی کسی بھی زیادتی پر ایسی آواز نہیں اُٹھاتے جو حکمرانوں کی نیند میں خلل ڈال سکے ؟

کسی ملک میں نہ اتنی ہڑتالیں ہوتی ہیں نہ اتنے جلوس نکلتے ہیں جتنے ہمارے ملک میں مگر بار آور کوئی نہیں ہوتا یہ بھی ہمارے ملک کا  ریکارڈ ہے ۔ کسی بھی ملک میں ایوارڈ ایک ایسی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ سالوں کی محنت کے بعد لوگ اس اعزاز کے حامل بنتے ہیں ۔لیکن جس طرح صدارتِ عظمیٰ ایک جھٹکے میں ہاتھ آئی ہے اسی طرح اعزازات بھی اب ایک نظرِ کرم اور جھٹکے کی بات ہے ۔پہلے شدید محنت اور تگ و دو کے بعد زندگیاں سخت کاوش میں گزار کر یہ اعزاز ہاتھ آتا ہے اور وہ لوگ بھی ایسے ہوتے تھے کہ دیکھ کر ہی سر فخر سے بلند ہوجوتا تھا ،جس دفعہ کی لسٹ دیکھ کر تو لگا کہ شاید پارٹی ایوارڈ ہیں انتہائی معافی کے ساتھ ِ۔

ایک اور چونکا دینے والی اور انتہائی حیران کف خبر ایک اینکر نے دی کہ پندرہ اگست کو بھی جھنڈا لہرایا گیا ہمارے اپنے ملک میں ہمارا منہہ بند کا بند رہ گیا ۔اور سانس بھی رکنے لگی مگر صفائی ضرور آئیگی ہمیں امید ہے کہ شاید کچھ غلط فہمی ہو ۔کہتے ہیں سیکیورٹی تھرٹ تھا لیکن اتنی جلدی ختم کیسے ہوگیا یہ بھی لا ینحل ہے ۔اس پر بھی کوئی آواز نہ اُٹھی ریلوے کے کرپشن کو سن سن کر ہم حٰران ہیں اور مارے حیرت ہمارا منہ بالکل بند ہے کہ کھلے عام کرپشن کی تمام کہانی سنائی جارہی ہے ثبوتوں کے ساتھ لیکن شاید ہماری طرح سب کا منہ بند ہے حیرت کے مارے ۔لیکن ریوڑیاں بانٹ رہے ہیں کیونکہ اپنوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کیسی میرٹ کیسی محنت اور کیسی خواہش کہ لوگ اپنی پوری پوری زندگی خرچ کر کے میرٹ پر آتے ہیں ۔لیکن ہمارے یہاں جہاں اور جگہوں پر کر پشن ہے وہاں شاید اب نئی راہیں بھی کرپشن نکال رہی ہے اور ان جگہوں پر بھی داخل ہورہی ہے جہاں اس کا سایہ بھی نہ پڑنا چاہئے ۔

بے نظیر انکم سپورٹ میں کیا کمال ہوا ؟ مشیر نے کیا تیر مارا ۔کچھ وزراء نے کیا پہاڑ کھودا ۔سفیر نے کونسی نہر کھودی ،ہمارا منہ بند ہے اور اس زور سے بند ہے کہ ایک حکومتی خاتون ورکر کی باتوں پر بھی نہ کھلا کہ ہماری حکمران پارٹی میں موجود خواتین کے سامنے تو اینکر اور شریک پروگرام بھی اپنی پگڑی اور کرسی بچاتے نظر آتے ہیں ۔ہمیں تو لگتا ہے کہ ان پروگراموں کے انچارج ان خواتیں کو بلانے کے بعد ضرور اینکر اور مہمان کی کرسی پر گلو لگا دیتے ہیں تا کہ وہ پروگرام پورا کریں اور اُٹھ کر بھاگ نہ سکیں ۔کیونکہ وہ خواتیں ایسی ایسی تاویلیں پیش کرتی ہیں کہ باوجود کوشش ہم اپنا منہ کھول نہیں پاتے ۔جب سارے ہی منہ بند ہیں تو ہمارا بیچارہ چھوٹا سا منہ کھلے بھی تو کیا تیر مار لے گا کہ یہ منہ اور مسور کی دال مگر ہم اس کے قائل ہیں کہ احتجاج کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو حق بات کے لئے ہونا چاہئے ۔ہمارا منہ بے شک مارے حیرت بند ہے مگر الحمدُ للہ قلم چل رہا ہے اور ہماری دعا ہے کہ حق لکھنے اور حق کے لئے آواز اُٹھانے کے لئے ہمارے قلم میں ہمیشہ طاقت رہے آمین ۔ہم اُن سب سے معزرت کے ساتھ یہ کالم لکھ رہے ہیں جنہیں واقعئی صحیح اور اور اُن کی محنت کے صلے میں یہ ایوارڈ ملا ۔ ان سب کو بہت بہت مبارک ۔ضروری نہیں کہ ہماری بات سے سب اتفاق کریں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہماری طرح بہت سے منہ حیرت سے بند ہو گئے ہوں ۔مگر ہمارے کان احتجاج سن رہے ہیں ۔ہمیں یقین ہے کہ یہ بے اثر ہوگا ۔ اسپیکر بھی نوازی گئیں ۔کون بچا ہم یہ سوچتے ہیں آپ ہمارے حق میں دعا کریں ۔

اللہ میرے ملک میں انصاف اور حق کا بول بالا کرے ۔
پاکستان زندہ باد

About the author

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive