Archive - March 14, 2011

1
خواتین میں نشے کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان
2
پھول نگر نا معلوم افراد سکریپ ڈیلر سے نقدی چھیننے کے بعداس کی شہ رگ کاٹ کر فرار
3
پھول نگر بڑی مچھلی فرار چھوٹی گرفتار

خواتین میں نشے کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان

بڑھتے ہوئے مسائل نے خواتین کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ حالات میں تیزی سے ہونے والی ابتری نے انہیں ذہنی مسائل سے دوچار کردیا ہے۔ اس ذہنی کرب سے نکلنے کے لیے اب خواتین بھی تیزی سے نشے کی لت میں مبتلا ہونے لگی ہیں۔ جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

عورتوں میں نشہ کی شرح بڑھتی جارہی ہے جو کافی خطرناک ہے۔ غریب عورت اپنے مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لیے نشہ کو بہترین ساتھی تصور کرتی ہیں۔ وہ خواتین جن کے پاس وافر مقدار میں پیسہ ہوتا ہے وہ دوسری بیگمات کی دیکھا دیکھی نشہ شروع کردیتی ہیں۔خواتین میں نشے کا پھیلتا ہوا زہر حالات کی خرابی، گھریلو نامساعد حالات اور معاشی پریشانیوں کی وجہ سے فروغ پذیر ہے۔

ہیروئن کا نشہ 1980ءکی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ اس مکروہ دھندے نے آہستہ آہستہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اونچے طبقے کی خواتین میں نشہ کرنے کی شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں سرفہرست سگریٹ نوشی ہے۔ دراصل ان خواتین کا ماحول آزادنہ قسم کا ہوتا ہے۔ مردو عورت میں کوئی فرق نہیں سمجھا جاتا یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں نشہ معیوب نہیں۔

پھر سگریٹ سے آگے بڑھ کر یہ شراب نوشی بھی شروع کردیتی ہیں۔ ایک ایسی ہی مالدار خاتون سے نشے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا: ”یہ ہمارے اسٹیٹس کی علامت ہے۔ ہمیں اپنے مغربی طرز کے رہن سہن کو برقرار رکھنے کے لیے یہ سب کرنا پڑتا ہے۔“

زیادہ تر اونچے طبقے کی 15 سے 25 سالہ لڑکیاں نشہ بالخصوص سگریٹ نوشی کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض تو ہیروئن بھی پیتی ہیں۔

ایک کالج کی لڑکی نے بتایا کہ تین سال پہلے اسے ہیروئن پینے کی لت لگی۔ وہ شروع میں ایک آدھ سگریٹ پیتی تھی اس کے بعد یہ آہستہ آہستہ اس کی ضرورت بنتی چلی گئی۔ ہیروئن نہ ملنے پر شدید تکلیف ہوتی ہے۔ ہاتھ پاوں اور کمر میںدرد ہوتا ہے۔ ایسے میں زیادہ شدید درد ہڈیوں میں ہوتا ہے جسے دور کرنے کے لیے ہیروئن پینی پڑتی ہے۔

اس طرح کی کئی لڑکیاں تو نشے کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں مگر اس کے باوجود یہ عادت ان سے نہیں چھوٹتی۔ بعض کاروباری لڑکیاں اس قبیح دھندے میں ملوث ہوتی ہیں۔وہ کالجوں میں لڑکیوں میں نشہ کی عادت ڈالتی ہیں۔

شروع شروع میں ایک لڑکی نشہ کرتی ہے۔ رفتہ رفتہ اس کے پورے گروپ میں نشہ کی یہ وباءپھیل جاتی ہے۔ شروع میں شوقیہ نشہ کرتی ہیں مگر پھر عادی ہوجاتی ہیں۔ لاعلمی کی وجہ سے بھی بعض لڑکیاں نشہ کرنے لگتی ہیں۔

ہاسٹلز میں رہنے والی بعض لڑکیاں ایسے خاندانوں سے ہوتی ہیں جن میں کچھ مسائل پائے جاتے ہیں۔ جب وہ امتحانوں میں ناکام ہوتی ہیں تو وہ نشہ شروع کردیتی ہیں۔ یہ عورتیں نشہ کی اتنی عادی ہو چکی ہوتی ہیں کہ وہ ہیروئن کو سرنج کی مدد خود ہی اپنے بازو میں اتارتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان عورتوں تک نشہ پہنچاتا کون ہے؟ نشہ کو ملک میں پھیلانے کے لیے بہت سارے گروہ کام کررہے ہیں۔ جن میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ یہی لوگ عورتوں کو نشہ کے عادی بنارہے ہیں۔ نشہ باز خواتین اپنا علاج نہیں کرواتیں کیوں کہ وہ سمجھتی ہیں اس طرح ان کی بدنامی ہوگی۔

زیادہ نشہ استعمال کرنے کی وجہ سے بہت ساری خواتین پاگل بھی ہو جاتی ہیں۔ شوبز سے تعلق رکھنے والی بعض لڑکیاں شراب اور چرس استعمال کرتی ہیں۔

خیال ہے کہ لڑکیاں زیادہ چرس استعمال کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ شراب کا استعمال شروع کردیتی ہیں۔ قبائلی علاقے کی عورتیں نسوار رکھتی ہیں۔

الیکڑانک میڈیا پر نشے کو گلیمرسے انداز میں دکھانا بھی خواتین میں نشے کا باعث بنتا ہے۔ شراب اور سگریٹ وغیرہ کو ایسے دلکش انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ خواہ مخواہ ہی سگریٹ اور شراب پینے کو دل چاہتا ہے۔ ان چیزوں کو استعمال کرنے والوں کو اتنا صاف گواور بہادر دکھایا جاتا ہے کہ لوگ اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

پھول نگر نا معلوم افراد سکریپ ڈیلر سے نقدی چھیننے کے بعداس کی شہ رگ کاٹ کر فرار

پھول نگر﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾پھول نگر نا معلوم افراد سکریپ ڈیلر سے نقدی چھیننے کے بعداس کی شہ رگ کاٹ کر فرار۔ دوسری واردات میں چار ڈاکوؤں نے ملز ورکروں سے ہزاروں روپے نقدی، موبائل فون چھین لیے۔ چوکی دینہ ناتھ کے قریب دوکان کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے مالیت کا سامان چوری کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں پرناواں کا رہائشی محمد منشائ جمعہ کے روز اپنی سکریپ کی گاڑی بیچ کر آیا تھا رقم اس کے پاس ہی تھی کہ اسی رات نا معلوم افراد نے تیز دھار آلہ سے نہ صرف اس کے پیٹ پر زخم لگائے بلکہ اس کی شہ رگ بھی کاٹ دی اور دوکان کو باہر سے تالہ لگا کر چلے گئے۔ واردات کا چار روز بعد دوکا ن کے تالے توڑنے پر علم ہوا۔ ورثہ اس دوران محمد منشائ کو ڈھونڈتے رہے۔اہل گاؤں کے مطابق نا معلوم ملزمان نے رقم چھیننے کے بعد منشائ کو قتل کیا ہے۔ جبکہ لمبے جاگیر بائی پاس پر رات گیارہ بجے چار ڈاکوؤں نے ملز ورکروں غلام مرتضیٰ، مصطفی، شرافت اور رمضان وغیرہ کو گن پوائنٹ پر یر غمال بنا کر بیس ہزار کے قریب نقدی اور موبائل فون چھین لیے۔ دریں اثنائ چوکی دینہ ناتھ سے ملحقہ ارشد آٹوز کے تالے توڑ کر نا معلوم چور تین لاکھ روپے مالیت کے قیمتی پرزہ جات اور موبل آئل چوری کر کے لے گئے۔

پھول نگر بڑی مچھلی فرار چھوٹی گرفتار

پھول نگر﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾پھول نگر بڑی مچھلی فرار چھوٹی گرفتار۔ تفصیلات کے مطابق صدر پولیس کو مخبر خاص نے اطلاع دی کہ مختار احمد نامی شخص لمبے جاگیر سے منشیات لے کر آ رہا ہے جس کو ناکہ پر روکا گیاتو وہ ایک کلو چرس کا پیکٹ پولیس کے پاس پھینک کر خود فرار ہو گیا جو پولیس کے مطابق اس نے اشرف عرف کالی جوئیہ سے خریدی تھی جبکہ ایک اور شخص رشید عرف چھیدا کھرل کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے تین سو ستر گرا م چرس اور پانچ لیٹر دیسی شراب برآمد کر لی۔

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive