Archive - May 2011

1
پنجاب کی معروف ترین سیر گاہ ہیڈبلوکی سے نکلنے والی لنک نہروں کے پلوں کی حالت انتہائی مخدوش
2
چاربچوں کی ماں کپڑے استری کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق
3
پولیس کے چھاپے لاکھوں روپے مالیت کی نو کلو گرام چرس برآمد رین منشیات فروش گرفتار، ایک فرار
4
پھول نگر ایس ایچ او کے بدلتے ہی روڈ ڈکیتی کی واداتوں میں اضافہ
5
سپیشل مجسٹریٹ نے چھاپے مارکرایک گراں فروش کو قصور جیل میں پہنچا دیا
6
کھدائی میں مصروف مزدور پر بجلی کی مین تار ٹوٹ کر گرنے سے مزدور موقع پر جاں بحق
7
درینہ دشمنی پر فائرنگ 4افراد موقع پر جاں بحق جب کہ 1شدید زخمی
8
بیرون ممالک میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دیکر سادہ لوح دیہاتیوں کو لوٹنے والے بین الاضلاعی گروہ کا انکشاف
9
نواحی گائوں بگھیانہ کلاں میں واپڈا چیکنگ ٹیم پر عادی بجلی چوروں کا حملہ
10
بھٹہ مزدوراور حقائق۔۔۔۔۔ خصوصی رپورٹ

پنجاب کی معروف ترین سیر گاہ ہیڈبلوکی سے نکلنے والی لنک نہروں کے پلوں کی حالت انتہائی مخدوش

بلوکی ﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾پنجاب کی معروف ترین سیر گاہ ہیڈبلوکی سے نکلنے والی ایل بی ڈی سی لنک نہر اور بی ایس لنک نہر کے پلوں کی حالت انتہائی مخدوش ہو کر رہ گئی دونوں پلوں پر اتنے گہرے کھڈے بن چکے ہیں کہ سیمنٹ نیچے گر کر سرئیے صاف نظر آرہے ہیں ۔کسی وقت بھی بہت بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے ۔ایکسئین محکمہ انہار نے آنکھیں بند کرلیں تفصیلات کے مطابق دریائے راوی پر ہیڈ بلوکی سے نکلے والی لوئر باری دوآب کینال نہر پر چند سال قبل کروڑوں روپے کی لاگت سے پل بنایا گیا تھا جو اپنی تعمیر کے چند سال بعد ہی نہ صرف ٹوٹ پھوٹ کر کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا بلکہ اس کا میٹیریل ٹوٹ کر نیچے گر چکا ہے سریوں کے جال میں سے نیچے پانی گزرتا صاف نظر آتا ۔بلکہ پل پر سے جب گاڑی گزرتی ہے تو پل لرزنے لگ جاتا ہے تاہم بلوکی سلیمانکی لنک نہر پر قیام پاکستان سے قبل پل تعمیر کیا گیا تھا وہ بھی ٹوٹ پھوٹ چکا ہے دونوں پل مخدوش حالت کی وجہ سے کسی وقت بھی بہت بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے محکمہ انہار کے ایکسئین اور ایس ڈی او کی گاڑیاں روزانہ اہر سے گزرتی ہیں مگر نہ جانے انہیں یہ ٹوٹے ہوئے پل نظر کیوں نہیں آتے یا پھر وہ جان بوجھ کر حادثہ ہونے کا انتظار کررہے ہیں کہ کب حادثہ ہوکب ہمارے وارے نیارے ہوں تاہم پلوں سے گزرنے والے آئتہ الکرسی پڑہ کر گزرتے ہیں علاقہ بھر میں تشویش کی لہر ۔

چاربچوں کی ماں کپڑے استری کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق

پھول نگر ﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾نواحی گائوں گلزار جاگیر میں چار بچوں کی والدہ گھر میں کپڑے استری کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق۔ تفصیلات کے مطابق گلزار جاگیر کے محنت کش منظور مستری کی بیوی گزشتہ روز گھر میں اپنے اور بچوں کے کپڑے استری کررہی تھی کہ اچانک اس کا ہاتھ بجلی کی ننگی تاروں سے چھو گیا جس سے متوفیہ موقع پر ہی تڑپ تڑپ کر اللہ کو پیاری ہو گئی متوفیہ چار کمسن بچوں کی ماں تھی جو ہمیشہ کیلئے اپنی ماں کی شفقت سے محروم ہوگئےa

پولیس کے چھاپے لاکھوں روپے مالیت کی نو کلو گرام چرس برآمد رین منشیات فروش گرفتار، ایک فرار

پتوکی﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾تھانہ سٹی پولیس کے چھاپے لاکھوں روپے مالیت کی نو کلو گرام چرس برآمد رین منشیات فروش گرفتار، ایک فرار۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایس ایچ او تھانہ سٹی پتوکی حاجی عبدالعزیز کو خفیہ اطلاع ملی اکہ ایک منشیات فروش نواب دین نواحی گاؤں بھائیکوٹ میں چرس فروخت کر رہا ہے تو پولیس نے چھاپہ مار کر پانچ کلو چرس برآمد کر لی جبکہ ایک ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ایک اور اطلاع پر پولیس نے بھائیکوٹ کے رہائشی محمد یعقوب کو ایک کلو 250 گرام چرس سمیت گرفتار کر لیا جبکہ ایک اور منشیات فروش زاہد کو چونیاں رورڈ سے گرفتار کر کے ایک کلو 250 گرام چرس برآمد کر لی جبکہ دربار بابا عباس سے عبدالرشید کو گرفتار کر کے 500 گرام چرس برآمد کر کے مقدمات درج کر لئے۔

پھول نگر ایس ایچ او کے بدلتے ہی روڈ ڈکیتی کی واداتوں میں اضافہ

پھول نگر﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾ پھول نگر ایس ایچ او کے بدلتے ہی روڈ ڈکیتی کی دو مختلف وارداتوں میں ڈاکو گن پوائنٹ پر ہزاروں روپے نقدی، موٹر سائیکل، گندم کی بوریاں بمعہ گاڑی، موبائل فونز اور دیگر قیمتی پارچات چھین کر فرار۔ تفصیلات کے مطابق ڈکیتی کی پہلی واردات میں کار سوار نا معلوم چار ڈاکوؤں نے چھانگا مانگا روڈ پر پولیس ناکہ کے قریب مزدا وین نمبری BR-8686 کو گن پوائنٹ پر روک کر ڈرائیور سعید کو رسیوں سے باندھ کر فصلوں میں پھینک کر 620توڑا گندم گاڑی سمیت چھین کر فرار ہو گئے۔ جبکہ دوسری واردات میں چھ نا معلوم ڈاکوؤں نے دھانہ کھوکھراں والا کے قریب چاہ کلالانوالہ کے رہائشی عارف، وسیم اور حنیف کو روک کر ان سے مجموعی طور پر بتین ہزار روپے نقدی اور بغیر نمبری نئی موٹر سائیکل اور موبائل فونز چھین کر فرار ہو گئے۔ پولیس تھانہ صدر پھول نگر نے مقدمات درج کر لیے۔

سپیشل مجسٹریٹ نے چھاپے مارکرایک گراں فروش کو قصور جیل میں پہنچا دیا

پتوکی﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾ کنٹرول قیمتوں سے زائد قیمتوں پر اشیائے ضرورت فروخت کر نے پر سپیشل مجسٹریٹ نے چھاپے مار کر ایک گراں فروش کو قصور جیل میں پہنچا دیا ۔ دو افراد کوبھاری جرمانے ۔ تفصیلات کے مطابق سپیشل مجسٹریٹ سردار حسن محمد ڈوگر نے نواحی اڈا جمبر کلاں پر چھاپے مار کر ایک گراں فروش وقار احمد کو گرفتار کر کے اپنی گاڑی میں بیٹھا لیا اور قصور لیجا کر ڈسٹرکٹ جیل میں بند کر دیا ۔ جبکہ دوسرے دو گراں فروشوں کو محمد عارف اور محمد اسلم کو بھاری جرمانے ادا کرنے پر رہا کر دیا ۔ یہ امر قابل ذکر اور قابل حیرت ہے کہ سپیشل مجسٹریٹ نے گراں فروش وقار احمد کو پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے خود اپنی گاڑی میں بٹھا کر قصور کیوں پہنچایا؟

کھدائی میں مصروف مزدور پر بجلی کی مین تار ٹوٹ کر گرنے سے مزدور موقع پر جاں بحق

پتوکی﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾کھدائی میں مصروف مزدور پر بجلی کی مین تار ٹوٹ کر گرنے سے مزدور موقع پر جاں بحق سینکڑوں دیہاتیوں اور اہل خانہ کے ہمراہ لاش سڑک پر رکھ کر واپڈا احکام کے خلاف شدید احتجاج، اعلیٰ احکام سے کارروائی کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق پھسین کا رہائشی مزدور عنائت مسجد قبا کے قریب زیر تعمیر مکان کی کھدائی میں مصروف تھا کہ اچانک مزدور کے اوپر سے گزرنے والی واپڈا کی مین تار ٹوٹ کر عنائت کے اوپر گر گئی جسکی وجہ سے مزدور تڑپ تڑپ کر وجاں بحق ہو گیا۔ یہ خبر ملت ہی سینکڑوں دیہاتی اور مزدور کے اہل خانہ موقع پر پہنچ گئے اور لاش کو کچری چوک میں رکھ کر اور ٹائر جلا کر واپڈا احکام کے خلاف شدید احتجاج کیا اور صحافیوں کو بتایا کہ اس سے پہلے کئی دفعہ واپڈا سب ڈویژن پتوکی سٹی کو تاروں کے بارے میں بتایا مگر واپڈا احکام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی جسکی وجہ سے آج ایک اور مزدور کی جان چلی گئی۔ مظاہرین نے اعلیٰ احکام سے صورتحال کا نوٹس لے کر واپڈا احکام کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا

درینہ دشمنی پر فائرنگ 4افراد موقع پر جاں بحق جب کہ 1شدید زخمی

پتوکی﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾درینہ دشمنی پر فائرنگ 4افراد موقع پر جاں بحق جب کہ 1شدید زخمی ہوگیا جسکی حالت تشویشناک ہونے پر لاہور جناح ہسپتال ریفر کر دیا گیا لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے تحصیل ہیڈ کوارٹر پتوکی پہنچا دیا گیا DPOقصور خبر ملتے ہی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گیا۔پتوکی کے نواحی گائوں ہنجرائے کلاں کے کوٹ چاہ بھٹیاں میں درینہ دشمنی پر دھوپ خاں میوئ کے گھر میں مخالف گروپ کے خلیل ، ادریس ، صاحب خاں اور الطاف وغیرہ 15افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے اجمل عمر 18سال، رفاقت عمر 19سال اور 75سالہ روپ خاں موقع پر جاں بحق ہوگئے اور اعظم خاں فائرنگ سے شدید زخمی ہوگیا جس کو لاہور جناح ہسپتال ریفر کر دیا گیا بتایا جاتا ہے کہ ان دونوں گروپوں کی درینہ دشمنی پر 5افراد پہلے بھی قتل ہو چکے ہیں DPOقصور گوہر نفیس بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور تینوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے پتوکی تحصیل ہیڈ کوارٹر پہنچا دیا گیا پولیس مصروف تفتیش ہے ۔

بیرون ممالک میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دیکر سادہ لوح دیہاتیوں کو لوٹنے والے بین الاضلاعی گروہ کا انکشاف

پھول نگر﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾بیرون ممالک میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دیکر سادہ لوح دیہاتیوں کو لوٹنے والے بین الاضلاعی گروہ کا انکشاف گروہ کا سرغنہ مظفر اقبال ساہیوال کا رہائشی ہے جس کا بھائی اظہر اقبال سادہ لوح لوگوں کو تھائی لینڈ ،ملیشیا وغیرہ میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دیکر ان سے لاکھوں روپے ہتھیا کر خرگوش بن کر چھپ جاتا ہے سرغنہ کا بھائی حفیظ سینٹر کے قریب واقع ٹریول ایجنسی سے ملی بھگت کرکے بیرون ملک بھجواتا ہے ڈائیریکٹر ایف آئی اے لاہور نے لٹنے والے ہیڈ بلوکی کے محمد سرفراز کی رپورٹ پر تحقیقات کا حکم دے دیا تفصیلات کے مطابق ہیڈ بلوکی کی کے جاوید خاں ولد دلاور خان نے اسی گائوں کے سادہ لوح سرفراز سے کہا کہ آپ کو ملیشیا کا ویزہ لیکر دوں جس پر وہ آمادہ ہوکر حفیظ سینٹر لاہور کے قریب واقع دستگیر ٹریول ایجنسی پر موجود اظہر اقبال ولد شیر محمد سکنہ عید گاہ روڈ ساہیوال لے گیا اور اس سے 40ہزار روپے لے کر تھائی لینڈ کا ویزا لگوا دیا مقررہ تاریخ کو سرفراز جب تھائی لینڈ پہنچا تو وہاں پر موجود نوسر باز مظفر اقبال ولد شیر محمد سکنہ نزد عید گاہ سا ہیوال نے رسیو کرکے ایک ہوٹل میں ٹھہرا دیا اور سرفراز اور اس کے ساتھی سے ملیشیا کا ویزہ لگوانے کیلئے ان سے ایک ایک لاکھ روپے لے کر انہیں ئقین دہانی کروائی کہ دو دن بعد آپ کو کام پر لگا دیا جائے گا اسی اثنا میں نوسر باز ان سے رقم لے کر غائب ہو گیا ۔سرفراز اور اسکا ساتھی آٹھ دن تک مظفر اقبال کو ڈھونڈتے رہے مگر وہ نہ مل سکا بعد ازاں سرفراز نے ایک تھائی لینڈ میں رہائشی شخص سے رقم ادہار لے کر اپنے گھر پہنچ گیا یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مظفر کا چھوٹا بھائی اظہر بھی ساہیوال میں موجود ہے جو ایک عرصہ سے سادہ لوح لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا کر تھائی لینڈ ،ملیشیا ،بنکاک لیجانے کا جھانسہ دیکر لوٹ مار میں مصروف ہے مقامی عوامی سماجی اور کاروباری حلقوں نے ایسے لٹیروں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم سرفراز کی درخواست پر ڈائیریکٹر جنرل ایف آئی اے لاہور نے ڈپٹی ڈائیریکٹر لاہور کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے

نواحی گائوں بگھیانہ کلاں میں واپڈا چیکنگ ٹیم پر عادی بجلی چوروں کا حملہ

پھول نگر﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام﴾نواحی گائوں بگھیانہ کلاں میں واپڈا چیکنگ ٹیم پر عادی بجلی چوروں کا حملہ ایک درجن سے زائد بجلی چوروں نے واپڈا اہلکاروں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ایک گھنٹہ حبس بے جا میں رکھنے کے بعد معززین علاقہ کی مداخلت پر چھوڑ دیا تفصیلات کے مطابق لیسکو سب ڈویژن جمبر کلاں کے ایس ڈی او سید اشفاق شاہ نے نواحی گائوں بگھیانہ کلاں میں میٹر انسپکٹر اور لائین سپرنٹنڈنٹ محمد امجد اور دوسرے اہلکاروں پر مشتمل ٹیم روانہ کی جب وہ عادی بجلی چور محمد اشرف کے گھر پر پہنچے ہی تھے کہ اس کے بھائی سرور ولد احمد دین نے اپنے ایک درجن سے زائد ساتھیوں کے زریعے حملہ کرکے تمام کو یرغمال بنا کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں انہی ایک گھنٹہ حبس بے جا میں رکھکر معززین علاقہ کے کہنے پر چھوڑ دیا یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اشرف ولد احمددین کے خلاف پہلے بھی بجلی چوری کے متعدد مقدمات درج ہیں ایس ڈی او جمبر کلاں نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی درخواست دے دی ہے

بھٹہ مزدوراور حقائق۔۔۔۔۔ خصوصی رپورٹ

آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری کی بات کریں گے جس کے ساتھ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کا روز گار منسلک ہے۔آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس کا کوئی قانون و قاعدہ نہیں۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس کو معاشرے میں بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس پر مختلف قسم کی ملکی و غیر ملکی N.G.O اور میڈیا ظالم اور مظلوم پر بات تو کرتا ہے لیکن کرتا کچھ نہیں۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس کو آج تک حکومت پاکستان نے انڈسٹری کا نام ہی نہیں دیا۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس پر آج تک کسی نے تفصیل سے بات نہیں کی اور نہ ہی اصل حقائق پیش کیے ہیں۔
یہ کون سی انڈسٹری ہے جی ہاں یہ انڈسٹری بھٹہ خشت ہے۔ پاکستان کی اس وقت آبادی تقریباً18کروڑکے الگ بھگ ہے۔ جس میں سے دو سے اڑھائی کروڑ آبادی Directlyیا Indirectly بھٹہ انڈسٹری کے ساتھ منسلک ہے۔ اب بات کرتے ہیں کہ اس انڈسٹری میں بنتا کیا ہے اس انڈسٹری میں اینٹیں ﴿Bricks﴾ بنتی ہیں جو کہ کسی گھر، پلازہ تعمیر کرنے کے لیے ایک اہم جز ہے۔ پاکستان میں تقریباً دس ہزار کے الگ بھگ بھٹے ہیں جو ملکی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ پاکستان کی مشہور اور کوالٹی کے اعتبار سیے اعلیٰ اینٹ صوبہ پنجاب کی ہے صوبہ پنجاب میں سے لاہور ڈویثرن اور جبکہ لاہور ڈویثرن میں سے ضلع قصور، ضلع قصور میں سے تحصیل پتوکی اور تحصیل پتوکی میں سے پتوکی اور پھول نگر کا علاقہ شامل ہے۔
آیئے اب ہم اس انڈسٹری کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہیں جس کو معاشرے میں بری نظروں سے کیوں دیکھا جاتا ہے اس انڈسٹری میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے اس کاروبار میں بہت سارے سنگین مسائل ہیں۔ ان مسائل میں انڈسٹری کا مالک بھی پس رہا ہے اور مزدور بھی۔ ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ لیبر کا ہے۔ جس کو میڈیا اور N.G.O بانڈڈ لیبر کا نام دیتی ہیں۔ بانڈڈ لیبر کے مسلہ کو جاننے سے پہلے ہمیں اس انڈسٹری یعنی کہ بھٹہ خشت کے کاروبار کی نوعیت اور اس میں دیگر امور کاروبار کو سمجھنا ضروری ہے اس کے بغیر ہم ظالم اور مظلوم کا فرق نہیں کر سکتے۔
-1 بھٹہ خشت کی انڈسٹری اور دوسری انڈسٹریوں سے 100فیصد مختلف ہے۔
-2بھٹہ خشت کا کاروبار شروع کرنے سے پہلے اینٹ بنانے کے لیے ایک سے لیکر دو مربعہ زمین درکار ہوتی ہے جو کہ ٹھیکہ پر کچھ وقت کے لیے لی جاتی ہے۔تقریباً دو سے اڑھائی ایکڑ زمین پر بھٹہ خشت کی تعمیر کے لیے کچی مٹی کی دیوریں تیار کی جاتی ہیں اور اس کے درمیان اینٹ سے ایک چمنی تعمیر کی جاتی ہے اینٹ بنانے سے پہلے مٹی سے کچی اینٹ بنائی جاتی ہے کچی اینٹ بنانے کے لیے ٹھیکہ پر لی گی زمین پر پانی کا بندوبست کیا جاتا ہے دفتر اور مزدوروں کی رہائش کے لیے چند کواٹر بنائے جاتے ہیں اس طرح اینٹ بنانے کا کارخانہ چند لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو جاتا ہے۔
-3 کارخانے کی تعمیر کے بعد اس کو چلانے کے لیے بھٹہ مالکان مزدوروں سے رابطہ کرتے ہیں اور بھٹہ مالکان ان کو پیشگی (Advance ﴾رقم دیتے ہیں۔ بھٹہ مالکان کے مطابق پیشگی دیناان کی مجبوری ہے اس کے بغیر کاروبار نہیں چلتا جبکہ مختلف قسم کیN.G.Oاور مزدورں کی فلاح و بہبود پر کام کرنے والی تنظیمیں اس کو لیبر بانڈڈ(Labour Bonded)کا نام دیتی ہیں۔ اس انڈسٹری میں سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے جبکہ دوسری انڈسٹریوں میں مشینری Involve ہوتی ہے اور صرف دس فیصد کام ہاتھ سے لیا جاتا ہے۔بھٹہ انڈسٹری میں تین چیزوں کا بڑا عمل و دخل ہوتا ہے۔ 1کچی اینٹ2 آگ3پکی اینٹ۔ اس کاروبار میں کام ایک Chain workکی طرح ہوتا ہے اس چین ورک کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ جب کچی اینٹ بن جاتی ہیں تواس کوپکانے کے لیے بھٹے کے اندر ترتیب سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ا وپر سے آگ گزاری جاتی ہے ۔ آگ گزارنے کے بعد اینٹ پک جاتی ہے اور پکنے کے بعد اس کو بھٹے سے باہر نکالا جاتا ہے۔ اور یہ تینوں کام ایک تسلسل کے ساتھ چلتے رہتے ہیں اگر ان میں سے ایک کام بھی رک جائے یا کوئی تھوڑی سی تاخیر ہو جائے تو اس انڈسٹری کو چند گھنٹوں میں لاکھوں کا نقصان ہو جاتا ہے۔ اس چین ورک میں کسی قسم کی مشینری استعمال نہیں ہوتی۔یہ سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے جو مزدور کرتے ہیں۔بھٹہ انڈسٹری مالک کے مطابق یہ وہ امر ہے جس میں لیبر مالک کو بانڈ اور پابند کرتی ہے نہ کہ مالک لیبر کو۔ کیوں کہ لیبر کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم کام نہ کریں گئے تو مالک کا نقصان ہو جائے گا۔اس لیے لیبر کو پیشگی رقم دینا ہماری مجبوری ہے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔بھٹہ مالکان کے مطابق ہم پیشگی رقم دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ حالانکہ لیبر ہم سے خود پیشگی کا مطالبہ کرتی ہے ۔ آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ بھٹہ مالکان اور مزدور کی پیشگی کا طریقہ کار:
مزدور جب بھی کسی بھٹے پر کام کرنے کے لیے آتا ہے تو اس کا ایک باقاعدہ ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ بھٹہ مالک اور مزدور کے درمیان ایک معاہدہ طے پاتا ہے۔یہ معاہدہ ایک سال کا ہوتا ہے جس کا دورانیہ دیسی مہینے ہارڈ کی 15 سے 15ہارڈ تک ہوتا ہے۔ جب مزدور کسی بھٹے پر آتا ہے تو وہ سب سے پہلے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے یعنی کہ پیشگی کا۔ دراصل یہ پیسے اس نے بھٹے والے کو ادا کرنے ہوتے ہیں جس پر وہ پہلے کام کرتا تھا۔ اور موجودہ بھٹہ مالک جائز پیسے دیکھتے ہوئے اس کو ادا کر دیتا ہے اور مزدور کے ساتھ معاہدہ طے کر لیتا ہے ۔
۱۔ ریٹ طے کیا جاتا ہے فی ہزار اینٹ کے حساب سے
۲۔ یہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ مالک ہر جمعرات کو مزدور کو اس کی مزدوری دے گا۔
۳۔ریٹ کا چوتھائی حصہ کٹوتی ہو گا تا کہ مزدور کی پیشگی ختم ہو سکے۔
۴۔ مزدور پابند ہو گا کہ وہ ایمانداری کے ساتھ اپنا پورا سال کا م کرے ۔
۵۔ بھٹہ مالک مزدور کو 15 فیصد کمیشن مزدور کے کام پر ادا کرے گا۔جو کہ ایک طرح مزدور کا پورے سال کا بونس ہوتا ہے۔
۶۔ بھٹہ مالک مزدور کو فری رہائش بھی دے گا اگر وہ رہنا چاہے تو۔
۷۔ بھٹہ مالک مزدور کو فری بجلی پانی کی سہولت بھی دے گا۔
۸۔ اگر مزدور کسی قسم کی غیرقانونی سرگرمیوں میں پایا گیا تو اس کا وہ خود ذمہ دار ہو گا﴿ چوری، ڈکیتی وغیرہ﴾
۹۔ معاہدہ کی مدت پوری ہونے کے بعد اگر مزدور کی مرضی ہو تو وہ مزید بھٹے پر کام کر سکتا ہے اگر مرضی نہ ہو تو وہ بھٹہ مالک سے حساب کروا کر بقایا رقم ادا کر کے کسی بھی بھٹے پر جا سکتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں کہ مزدور کا بھٹہ پر کام کرنے کا طریقہ کار:
یہ بھٹہ انڈسٹری دیہاتی علاقوں میں واقع ہوتی ہے اس لیے مزدور کام کرنے کے لیے آتے ہیں اور کام کرنے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ بعض مزدور اپنی فیملی کے ساتھ بھٹوں پر ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ جن کو مالکان بھٹہ فری رہائش فراہم کرتاہے اس انڈسٹری کا تعلق موسموں کے زیر اثر رہتا ہے۔ جبکہ موسمی حالات کے پیش نظر یہ انڈسٹری گرمیوں یعنی کہ مون سون اور شدید سردی میں بند ہوجاتی ہے۔ اس لیے مزدور بھٹہ پر کام کرنے کے لیے اپنے اوقات کار اپنی سہولت کے مطابق خود طے کرتے ہیںاور چھٹی کرنے اور کام کرنے کے اوقات کے معاملے میں خود مختار اور آزاد ہوتے ہیں۔ اس میں مالک کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا کیوں کہ یہ سارا کامPice Rate پر ہوتا ہے۔ بھٹہ مالک ہمیشہ میڈیا اور این۔جی۔ او ز کا الزام بے بنیاد قرار دیتاہے کہ مالک مزدور سے سارا دن کام کرواتے ہیں اور اجرت کم دیتے ہیں۔ کیوں کہ یہ میڈیا اور این۔ جی۔ او اصل حقائق سے نا واقف ہوتے ہیں۔ دراصل بھٹہ جات پر حالات، واقعات کے بعد زمینی حقائق کے مطابق قا نون سازی کی ضرورت تھی مگر ہماری حکومت نے Indian ACT کی ہو بہو نقل کرتے ہوئے اس قانون کو پاکستان میں بھی لاگو کر دیا۔ جس سے حالات میں بگاڑ پیدا ہو کر پیچیدگیاں بڑھ گئی۔
بانڈڈ لیبر ایکٹ1992ئ کی وجہ سے بھٹہ خشت کے کاروباری مسائل:
1987-88ئ میں جسٹس محمد افضل ظلہ صاحب﴿سپریم کورٹ آف پاکستان﴾ نے ایک از خود نوٹس کیس میں تمام متعلقہ فرقین کے حالات واقعات کو تفصیل سے سن کر فیصلہ دیا جس میں حکومت پاکستان کو بانڈڈلیبر سسٹم کے خاتمہ کے لئے قانون سازی کی ڈائریکشن دی کہ پاکستان میں قانون بنایا جائے اور وہ انڈیا میں رائج بانڈڈلیبر خاتمہ ایکٹ1976ئ کی طرز کا نہ ہو۔بلکہ وہ پاکستان کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر بنایا جائے۔ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ حکومت پاکستان نے بانڈڈ لیبر ایکٹ1992ئ بالکل انڈیا میں رائج بانڈڈ لیبر ایکٹ1976ئ کی نقل کر کے بنایا اور اس سلسلہ میں مزدور اور مالکان سے مشاورت نہ کی گئی،زمینی حقائق کو نظر انداز کر دیا گیا اور اس قانون کے تحت تمام معاہدہ جات اور پیشگی کو یکسر ختم کردیا گیا اور بدلے میں بھٹہ کاروبار کے لئے کوئی نیا میکنزم بھی نہ دیا گیا اور اس طرح بھٹہ مالکان کے مزدور بھٹوں کو چھوڑ کر چلے گئے جس سے ہزاروں بھٹہ مالکان دیوالیہ ہو گئے۔
ACT-92 ایک جنرل قانون تھا لیکن بد قسمتی سے اس قانون کو بھٹہ خشت انڈسٹری پر مسلط کر دیا گیا۔ بھٹہ خشت کے کاروبار کے زمینی حقائق کو جانے بغیرBonbed ACT کو صرف خصوصاً پاکستان کے تمام بھٹہ مالکان پر لاگو کر دیا گیا۔ اس ایکٹ کو صرف بھٹہ کاروبار کے لئے مخصوص سمجھ لیا گیا۔ ایگریمنٹ اور پیشگی کو غیر قانونی بنا کر بھٹہ کا کاروبار کرنیکا کا طریقہ کار، میکنزم ختم کردیا گیاتھا۔Abolition ACTکی تشریح اور Abolition Rulesکو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنا ہو گا اور بھٹہ کاروبار کے لئے مالکان بھٹہ کے جائز مسائل اور مشکلات کو بلا تعصب مد نظر رکھتے ہوئے زمینی حقائق کے مطابق قانون سازی کرنا ہوگی۔ جس سے بھٹہ مالکان اور بھٹہ مزدور میں پیدا ہونے والی بے چینی اور عدم تحفظ کا خاتمہ ہوسکے۔
بھٹہ خشت میں روائیتی اور رواجی طریقہ کار ختم کرنے کے بعد کوئی متبادل میکنزم نہ دیا گیا۔ متبادل میکنزم نہ ہونے کی وجہ سے یہ کاروبار سابقہ روایات اور رواج کے سسٹم کے مطابق پھر چل پڑافرق صرف اتنا تھا کہ پھرغیر ایگریمنٹ پیشگی کالین دین شروع ہو گیا۔ اور مالکان کی پیشگی ادائیگی کو مالکان بھٹہ کی کمزوری سمجھتے ہوئے بانڈڈ ایکٹ کی خامیوں کی وجہ سے ایگریمنٹ اور پیشگی ادائیگی غیر قانونی ہونے کے باوجود زبانی ایگریمنٹ اور نقد پیشگی ادائیگی جاری رہی۔ نام نہاد غیر سنجیدہ NGOsاور دوسرے مفاد پرست خود غرض و بلیک میلر مزدور رہنماوں نے بانڈڈ ایکٹ کوذاتی منفعت کے لئے استعمال کرتے ہوئے بھٹہ مالکان کو بلیک میل کر کے جگہ جگہ سے پیشگی وصول کرنا شروع کر دیا اور بھٹہ مالکان کے خلاف حبس بیجا کی درخواستوں کی بھرمار و پیشگی رقوم ہڑپ کرنے اور عدالتوں سے مزدورں کو نام نہاد آزادی دلانے اور میڈیا پر خبروں سے پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے حوالے سے پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ایسے عناصر جو پاکستان میں بے چینی کی فضا برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور وہ پاکستان مخالف لابی کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں اور ان سے مالی مفاد حاصل کرتے ہیں اور پاکستان کو بدنام کرتے ہیں اس وجہ سے بھٹہ مالکان بے چینی ، فساد، بد نامی، نقصان اور بلیک میلنگ کا شکار ہورہے ہیں۔
حال ہی میں ایک انٹرنیشنل ادارہ جس کا نام I.L.O﴿انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن﴾ہے جو مزدوروں کی فلاح و بہبود پر کام کرتا ہے اس نے بھٹہ مالکان کے ساتھ مزکرات کیے اور تسلیم کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ پاکستان میں موجودہ قانون بھٹہ انڈسٹری کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اور اس میں قانون سازی کی ضرورت ہے تا کہ اس انڈسٹری کو بچایا جا سکے۔
صدرانجمن مالکان بھٹہ خشت پاکستان محمد شعیب خان نیازی کہتے ہیں کہ اس انڈسٹری کی کوئی مشینری نہیں ہوتی کیونکہ سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے۔ لہذا یہ لیبر اس انڈسٹری کی مشینری ہے جو مشینری کے طور پر کام کرتی ہے جس کے بغیر یہ انڈسٹری کام نہیں کر سکتی۔ شعیب خان نیازی میڈیا ،NGO’s اور لیبر کی فلاح و بہبودپر کام کرنے والی تنظیموں کو کہتے ہیں جو لیبر بانڈڈ پر شورمچاتے ہیں کہ آپ ہی کوئی حل بتائیں کہ یہ لیبر بانڈڈ کا مسلہ حل ہو جائے اور یہ بھی آفر کرتے ہیں کہ میرئے بھٹے کو چلائیں لیبر کو پیشگی دئے بغیر اور ساری کی ساری انوسٹمنٹ میری ہوگی بس آپ لوگوں کو ایک ماڈل بنا کر دے دیں کہ بغیر پیشگی کہ ایسے بھٹے چلتے ہیں جو کہ ناممکن ہے۔
ایک بھٹہ مالک﴿چوہدری امجد علی﴾ کے مطابق میڈیا کو بھٹہ مزدور کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہوتی اور وہ اس کو غلط رنگ دیتے ہیں اور بھٹہ مالک پر بے بنیاد الزام لگاتے ہیں کہ بھٹہ مالک بہت ظالم ہوتے ہیں اور ان کی لیبر گردہ فروش ہوتی ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا اگر کوئی گردہ فروخت کرتا ہے تو یہ اس کا اپنا ذاتی فعل ہوتا ہے۔اگر بھٹہ مالک کو پتہ چل جائے کہ اس کے مزدور نے اپنا گردہ فروخت کر دیا ہے تو وہ اس کو اپنے بھٹے پر کھبی بھی نہیں رکھے گا کیونکہ بھٹہ پر ایک گردے کے ساتھ سخت کام کرنا جان کو خطرے میں ڈالنے کہ مترادف ہو گا۔
اب ہم چائلڈ لیبر پر بات کرتے ہیں کیونکہ یہ مسلہ بھی اس انڈسٹری کا ایک اہم مسلہ ہے۔ بھٹہ مالک کبھی بھی بچوں کو کام پر نہیں لگاتا جبکہ مزدور خود لالچ میں آکر بچوں کو کام پر لگاتے ہیں کیونکہ بھٹے کا سارا کامPice Rate ہوتا ہے۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے بھٹہ اونر اور P.S.T.A﴿پاک سویڈیش ٹیچر ایسوسی ایشن﴾ مل کر کام کر رہی ہے جو تقریباً ہر بھٹہ پر سکول قائم کرتی ہے بھٹہ مالک بلڈنگ، پانی، بجلی اور بنیادی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔
جب اس سلسلے میں شعیب خان نیازی صدر پاکستان بھٹہ اونر ایسوسی ایشن سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ بھٹہ خشت انڈسٹری کا سب سے اہم مسلہ پاکستان لیبر بانڈڈ اور فورس لیبر کا گھناؤنا الزام ہے جس کو ہم بطور بھٹہ اونر ایسو سی ایشن حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر ختم کرنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں I.L.O اور بہت سی مزدور یونین کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک معاہدہ ڈیزائن کیا گیا جو کہ تمام فریقین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اس معاہدہ اجرت کو I.L.O اور تمام افرادی قوت کے اداروں نے سراہا ہے ۔ ہماری حکومت سے گزارش ہے کہ اگر وہ مزدورں کے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے تو مزدورں اور بھٹہ مالکوں کے درمیان فساد اور جھگڑے کو
ختم کرنے کے لئے ان کے درمیان منصفانہ معاہدہ اجرت کو نافذ کرے۔
ڈاکٹر حاجی نذر حسین جنرل سیکرٹری بھٹہ خشت اونر ایسو سی ایشن ضلع قصور کچھ یوں کہتے ہیں کہ میرے مطابق بھٹہ خشت انڈسٹری پر یہ الزام ہے کہ بھٹہ مالکان مزدورں سے زبردستی کم معاوضہ پر کام لیتے ہیں تو ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ بھٹہ مالکان اور بھٹہ مزدورں کے درمیان کوئی ایسا متفقہ لائحہ عمل تشکیل دیں کہ بھٹہ انڈسٹری کے اوپر سے بانڈڈ لیبر کا الزام دھل جائے جس کے لئے ہمارے صدر بھٹہ اونر ایسو سی ایشن نے معاہدہ اجرت ڈرافٹ کر کے حکومتی عہدے داروں اور مختلف این جی اوز اور I.L.Oکو بھی فراہم کیا ہے۔اس اہم مسلے کے علاوہ بھی بھٹہ انڈسٹری بہت سے مسائل òکا شکار ہے جس میں سرفہرست کوئلے کی قیمت میں غیر یقینی اور غیر معمولی اضافہ ہے جس کی وجہ سے انڈسٹری بحران کا شکار ہو گئی ہے حکومت وقت سے اپیل ہے کہ وہ کوئلے مائنز اونرز کو پابند کرے کہ وہ کوئلے کی قیمتوں میں استحکام لائے اور بھٹہ انڈسٹری کو بلیک میل نہ کریں۔
مہر عبدالحق کوآرڈینٹر بھٹہ اونر ایسوسی ایشن پاکستان بھٹہ انڈسٹری کا دفاع کچھ یوں کرتے ہیں کہ بانڈڈ لیبر ایکٹ1992لے تحت بھٹہ مزدور کو پیشگی رقم دینا جرم ہے لیکن بھٹہ مزدور پیشگی رقم کے بغیر کام نہیں کرتا۔کام سر انجام دینے کے عوض یا معاوضہ ایڈوانس دینے اور لینے کا سلسلہ اور نظام پرانا اور خاص طور پر ہمارے ملک کے ہر شعبے میں موجود ہے۔ مثال کہ طور پر ایک سکول ٹیچر اپنی دس ماہ کی تنخواہ ایڈوانس حاصل کرتا ہے اور اس رقم سے اپنے گھریلو اور ذاتی ضروریات کو پورا کرتا ہے لیکن محکمہ تعلیم اسکی تنخواہ سے پیشگی رقم کٹوتی کرتا ہے۔ لیکن اس پر بانڈڈ لیبر ایکٹ لاگو نہیں ہوتا جبکہ بھٹہ خشت پر لاگو ہوتا ہے یہ ایک ظالمانہ قانون اور دوہری پالیسی ہے۔ بانڈڈ لیبر ایکٹ 1992 کا قانون بالکل غلط استعمال ہو رہا ہے یہ صرف مفاد پرست لوگ استعما ل کرتے ہیں اور بھٹہ انڈسٹری کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔پیشگی رقم مزدور کو دینے کے عمل کو اس لئے بھی غلط کہا جاتا ہے کہ مزدور ان پڑھ ہوتے ہیں اور یہ حساب کتاب نہیں کر سکتے اور بھٹہ مالک ناجائز رقم ان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ ان تمام مشکلات او مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بھٹہ ایسو سی ایشن نے I.L.Oکے تعاون سے ایک معاہدہ ڈئزائن کیا ہے اور بھٹہ اونرز ایسو سی ایشن حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مزدور اور بھٹہ مالک کے درمیان ایک معاہدہ تحریر کیا جائے تا کہ کسی بھی بے اعتمادی اور بد دیانتی کا الزام نہ آئے۔ پاکستان کی عدالتیں اور قانون یہ کہتا ہے کہ بھٹہ انڈسٹری کا مزدور جاہل اور ان پڑھ ہے اس لیے وہ معاہدہ نہیں کرسکتا ۔ جو کہ ہماری نظر میں غلط بات ہے کیونکہ ایک جاہل آدمی بھی کروڑوں روپے کی جائیداد انگوٹھا لگا کر کسی اور کی حقوق ملکیت کر سکتا ہے توبھٹہ مزدور کسی مجاذ حکومتی افسر کے سامنے لین دین کے معاہدہ کیوں نہیں کرسکتا۔ ہمارے ملک کا قانون پیشگی رقم خدمات کے عوض دینے کو غلط اور غیر قانونی قرار دیتا ہے لیکن یہ قانون صرف بھٹہ خشت کے کاروبار کے لئے ہے۔ پاکستان میں نرسنگ اور ایئرہوسٹس کی نوکری کرنے والی خواتین جب ملازمت کے لیے درخواست دیتی ہیں تو اس وقت محکمہ ان کو ٹرینگ دینے سے پہلے بانڈ پیپر لکھوا لیتا ہے کہ وہ ٹرینگ کہ بعد مخصوص عرصے تک لازمی نوکری کریں گی اگر وہ درمیان میں نوکری چھوردیتی ہیں تو محکمہ انکے خلاف کارروائی کرے گا تو میرا سوال یہ ہے کہ یہ بانڈڈ لیبر کی اصل شکل نہیں ہے؟
ہمارا حکومت سے مطالبہ یہ ہے کہ بھٹہ خشت انڈسٹری کو مکمل تباہی سے بچائے اور بھٹہ مالک اور مزدور کے درمیاں ایک سال کاتحریری ۔معاہدہ کرویا جائے۔ اگر حکومت ملک سے لیبر بانڈڈ کو ختم کرنا چاہتی ہے تو ہماری تجاویز پر غور کرے۔
ایک بھٹہ مزدور سے جب پوچھا کہ آپ پر کتنا قرضہ ہے تو اس نے کہا کہ میرے اوپر تو کوئی قرضہ نہیں ہے اور نہ ہی میرے کندوں پر کوئی بوجھ ہے اگر ہے تو وہ بھٹہ مالک کے کھاتوں میں ہے۔
معروف معاشرتی جرائم اور ظلم و انصافی کے خلاف دنیا میں سب سے زیادہ بھوک ہڑتالیں کرنے والے مزدور لیڈر احسان اللہ کے پیرو کار اور انسانی حقوق کے علم بردار سوشل لیڈر حکیم زادہ سلیم منور شہید چیر مین ملی مفادات مشترکہ مشنن پاکستان نے بھی بھٹہ مزدوروں پرمظالم کے خلاف بھوک ہڑتالیں کی ہیں مگر جب ان سے خدا خوفی کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے بار بار بھٹہ مزدورں کو مظلوم سمجھ کر انکے حق میں اور بھٹہ مزدوروں کے خلاف آواز اٹھائی مگر تحقیقات پر بار بار بھٹہ مزدوروں کو جھوٹا، دھوکا، مفاد پرست اور بلیک میلرز لیڑئے ہی پایا۔ جس کا کھایا اسی کا نہ گایا والی بات سامنے آئی۔ حکیم زادہ نے مزید کہا کہ وہ حاجی شعیب خان نیازی کو درست سمجھتے ہیں اور ان کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے قانون میں ترمیم چاہتے ہیں اور حکومت سے جنگی بنیادوں پر اصلاح احوال کا مطالبہ ہے ۔ تاکہ اس انڈسٹری کو بچایا جاسکے۔

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive