Archive - May 9, 2011

1
بھٹہ مزدوراور حقائق۔۔۔۔۔ خصوصی رپورٹ
2
تحریک منہاج القرآن تحصیل پتوکی کے زیراہتمام31واںماہانہ درس
3
محکمہ سوئی گیس قصور کی کرپشن پر شہریوں نے سوئی گیس حکام مردہ باد کے نعرے لگا دئیے
4
ایس پی ٹریفک پولیس شیخوپورہ رینج منصورناجی کی خصوصی ہدا ئت پرسیمنار

بھٹہ مزدوراور حقائق۔۔۔۔۔ خصوصی رپورٹ

آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری کی بات کریں گے جس کے ساتھ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کا روز گار منسلک ہے۔آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس کا کوئی قانون و قاعدہ نہیں۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس کو معاشرے میں بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس پر مختلف قسم کی ملکی و غیر ملکی N.G.O اور میڈیا ظالم اور مظلوم پر بات تو کرتا ہے لیکن کرتا کچھ نہیں۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس کو آج تک حکومت پاکستان نے انڈسٹری کا نام ہی نہیں دیا۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس پر آج تک کسی نے تفصیل سے بات نہیں کی اور نہ ہی اصل حقائق پیش کیے ہیں۔
یہ کون سی انڈسٹری ہے جی ہاں یہ انڈسٹری بھٹہ خشت ہے۔ پاکستان کی اس وقت آبادی تقریباً18کروڑکے الگ بھگ ہے۔ جس میں سے دو سے اڑھائی کروڑ آبادی Directlyیا Indirectly بھٹہ انڈسٹری کے ساتھ منسلک ہے۔ اب بات کرتے ہیں کہ اس انڈسٹری میں بنتا کیا ہے اس انڈسٹری میں اینٹیں ﴿Bricks﴾ بنتی ہیں جو کہ کسی گھر، پلازہ تعمیر کرنے کے لیے ایک اہم جز ہے۔ پاکستان میں تقریباً دس ہزار کے الگ بھگ بھٹے ہیں جو ملکی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ پاکستان کی مشہور اور کوالٹی کے اعتبار سیے اعلیٰ اینٹ صوبہ پنجاب کی ہے صوبہ پنجاب میں سے لاہور ڈویثرن اور جبکہ لاہور ڈویثرن میں سے ضلع قصور، ضلع قصور میں سے تحصیل پتوکی اور تحصیل پتوکی میں سے پتوکی اور پھول نگر کا علاقہ شامل ہے۔
آیئے اب ہم اس انڈسٹری کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہیں جس کو معاشرے میں بری نظروں سے کیوں دیکھا جاتا ہے اس انڈسٹری میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے اس کاروبار میں بہت سارے سنگین مسائل ہیں۔ ان مسائل میں انڈسٹری کا مالک بھی پس رہا ہے اور مزدور بھی۔ ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ لیبر کا ہے۔ جس کو میڈیا اور N.G.O بانڈڈ لیبر کا نام دیتی ہیں۔ بانڈڈ لیبر کے مسلہ کو جاننے سے پہلے ہمیں اس انڈسٹری یعنی کہ بھٹہ خشت کے کاروبار کی نوعیت اور اس میں دیگر امور کاروبار کو سمجھنا ضروری ہے اس کے بغیر ہم ظالم اور مظلوم کا فرق نہیں کر سکتے۔
-1 بھٹہ خشت کی انڈسٹری اور دوسری انڈسٹریوں سے 100فیصد مختلف ہے۔
-2بھٹہ خشت کا کاروبار شروع کرنے سے پہلے اینٹ بنانے کے لیے ایک سے لیکر دو مربعہ زمین درکار ہوتی ہے جو کہ ٹھیکہ پر کچھ وقت کے لیے لی جاتی ہے۔تقریباً دو سے اڑھائی ایکڑ زمین پر بھٹہ خشت کی تعمیر کے لیے کچی مٹی کی دیوریں تیار کی جاتی ہیں اور اس کے درمیان اینٹ سے ایک چمنی تعمیر کی جاتی ہے اینٹ بنانے سے پہلے مٹی سے کچی اینٹ بنائی جاتی ہے کچی اینٹ بنانے کے لیے ٹھیکہ پر لی گی زمین پر پانی کا بندوبست کیا جاتا ہے دفتر اور مزدوروں کی رہائش کے لیے چند کواٹر بنائے جاتے ہیں اس طرح اینٹ بنانے کا کارخانہ چند لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو جاتا ہے۔
-3 کارخانے کی تعمیر کے بعد اس کو چلانے کے لیے بھٹہ مالکان مزدوروں سے رابطہ کرتے ہیں اور بھٹہ مالکان ان کو پیشگی (Advance ﴾رقم دیتے ہیں۔ بھٹہ مالکان کے مطابق پیشگی دیناان کی مجبوری ہے اس کے بغیر کاروبار نہیں چلتا جبکہ مختلف قسم کیN.G.Oاور مزدورں کی فلاح و بہبود پر کام کرنے والی تنظیمیں اس کو لیبر بانڈڈ(Labour Bonded)کا نام دیتی ہیں۔ اس انڈسٹری میں سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے جبکہ دوسری انڈسٹریوں میں مشینری Involve ہوتی ہے اور صرف دس فیصد کام ہاتھ سے لیا جاتا ہے۔بھٹہ انڈسٹری میں تین چیزوں کا بڑا عمل و دخل ہوتا ہے۔ 1کچی اینٹ2 آگ3پکی اینٹ۔ اس کاروبار میں کام ایک Chain workکی طرح ہوتا ہے اس چین ورک کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ جب کچی اینٹ بن جاتی ہیں تواس کوپکانے کے لیے بھٹے کے اندر ترتیب سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ا وپر سے آگ گزاری جاتی ہے ۔ آگ گزارنے کے بعد اینٹ پک جاتی ہے اور پکنے کے بعد اس کو بھٹے سے باہر نکالا جاتا ہے۔ اور یہ تینوں کام ایک تسلسل کے ساتھ چلتے رہتے ہیں اگر ان میں سے ایک کام بھی رک جائے یا کوئی تھوڑی سی تاخیر ہو جائے تو اس انڈسٹری کو چند گھنٹوں میں لاکھوں کا نقصان ہو جاتا ہے۔ اس چین ورک میں کسی قسم کی مشینری استعمال نہیں ہوتی۔یہ سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے جو مزدور کرتے ہیں۔بھٹہ انڈسٹری مالک کے مطابق یہ وہ امر ہے جس میں لیبر مالک کو بانڈ اور پابند کرتی ہے نہ کہ مالک لیبر کو۔ کیوں کہ لیبر کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم کام نہ کریں گئے تو مالک کا نقصان ہو جائے گا۔اس لیے لیبر کو پیشگی رقم دینا ہماری مجبوری ہے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔بھٹہ مالکان کے مطابق ہم پیشگی رقم دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ حالانکہ لیبر ہم سے خود پیشگی کا مطالبہ کرتی ہے ۔ آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ بھٹہ مالکان اور مزدور کی پیشگی کا طریقہ کار:
مزدور جب بھی کسی بھٹے پر کام کرنے کے لیے آتا ہے تو اس کا ایک باقاعدہ ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ بھٹہ مالک اور مزدور کے درمیان ایک معاہدہ طے پاتا ہے۔یہ معاہدہ ایک سال کا ہوتا ہے جس کا دورانیہ دیسی مہینے ہارڈ کی 15 سے 15ہارڈ تک ہوتا ہے۔ جب مزدور کسی بھٹے پر آتا ہے تو وہ سب سے پہلے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے یعنی کہ پیشگی کا۔ دراصل یہ پیسے اس نے بھٹے والے کو ادا کرنے ہوتے ہیں جس پر وہ پہلے کام کرتا تھا۔ اور موجودہ بھٹہ مالک جائز پیسے دیکھتے ہوئے اس کو ادا کر دیتا ہے اور مزدور کے ساتھ معاہدہ طے کر لیتا ہے ۔
۱۔ ریٹ طے کیا جاتا ہے فی ہزار اینٹ کے حساب سے
۲۔ یہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ مالک ہر جمعرات کو مزدور کو اس کی مزدوری دے گا۔
۳۔ریٹ کا چوتھائی حصہ کٹوتی ہو گا تا کہ مزدور کی پیشگی ختم ہو سکے۔
۴۔ مزدور پابند ہو گا کہ وہ ایمانداری کے ساتھ اپنا پورا سال کا م کرے ۔
۵۔ بھٹہ مالک مزدور کو 15 فیصد کمیشن مزدور کے کام پر ادا کرے گا۔جو کہ ایک طرح مزدور کا پورے سال کا بونس ہوتا ہے۔
۶۔ بھٹہ مالک مزدور کو فری رہائش بھی دے گا اگر وہ رہنا چاہے تو۔
۷۔ بھٹہ مالک مزدور کو فری بجلی پانی کی سہولت بھی دے گا۔
۸۔ اگر مزدور کسی قسم کی غیرقانونی سرگرمیوں میں پایا گیا تو اس کا وہ خود ذمہ دار ہو گا﴿ چوری، ڈکیتی وغیرہ﴾
۹۔ معاہدہ کی مدت پوری ہونے کے بعد اگر مزدور کی مرضی ہو تو وہ مزید بھٹے پر کام کر سکتا ہے اگر مرضی نہ ہو تو وہ بھٹہ مالک سے حساب کروا کر بقایا رقم ادا کر کے کسی بھی بھٹے پر جا سکتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں کہ مزدور کا بھٹہ پر کام کرنے کا طریقہ کار:
یہ بھٹہ انڈسٹری دیہاتی علاقوں میں واقع ہوتی ہے اس لیے مزدور کام کرنے کے لیے آتے ہیں اور کام کرنے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ بعض مزدور اپنی فیملی کے ساتھ بھٹوں پر ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ جن کو مالکان بھٹہ فری رہائش فراہم کرتاہے اس انڈسٹری کا تعلق موسموں کے زیر اثر رہتا ہے۔ جبکہ موسمی حالات کے پیش نظر یہ انڈسٹری گرمیوں یعنی کہ مون سون اور شدید سردی میں بند ہوجاتی ہے۔ اس لیے مزدور بھٹہ پر کام کرنے کے لیے اپنے اوقات کار اپنی سہولت کے مطابق خود طے کرتے ہیںاور چھٹی کرنے اور کام کرنے کے اوقات کے معاملے میں خود مختار اور آزاد ہوتے ہیں۔ اس میں مالک کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا کیوں کہ یہ سارا کامPice Rate پر ہوتا ہے۔ بھٹہ مالک ہمیشہ میڈیا اور این۔جی۔ او ز کا الزام بے بنیاد قرار دیتاہے کہ مالک مزدور سے سارا دن کام کرواتے ہیں اور اجرت کم دیتے ہیں۔ کیوں کہ یہ میڈیا اور این۔ جی۔ او اصل حقائق سے نا واقف ہوتے ہیں۔ دراصل بھٹہ جات پر حالات، واقعات کے بعد زمینی حقائق کے مطابق قا نون سازی کی ضرورت تھی مگر ہماری حکومت نے Indian ACT کی ہو بہو نقل کرتے ہوئے اس قانون کو پاکستان میں بھی لاگو کر دیا۔ جس سے حالات میں بگاڑ پیدا ہو کر پیچیدگیاں بڑھ گئی۔
بانڈڈ لیبر ایکٹ1992ئ کی وجہ سے بھٹہ خشت کے کاروباری مسائل:
1987-88ئ میں جسٹس محمد افضل ظلہ صاحب﴿سپریم کورٹ آف پاکستان﴾ نے ایک از خود نوٹس کیس میں تمام متعلقہ فرقین کے حالات واقعات کو تفصیل سے سن کر فیصلہ دیا جس میں حکومت پاکستان کو بانڈڈلیبر سسٹم کے خاتمہ کے لئے قانون سازی کی ڈائریکشن دی کہ پاکستان میں قانون بنایا جائے اور وہ انڈیا میں رائج بانڈڈلیبر خاتمہ ایکٹ1976ئ کی طرز کا نہ ہو۔بلکہ وہ پاکستان کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر بنایا جائے۔ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ حکومت پاکستان نے بانڈڈ لیبر ایکٹ1992ئ بالکل انڈیا میں رائج بانڈڈ لیبر ایکٹ1976ئ کی نقل کر کے بنایا اور اس سلسلہ میں مزدور اور مالکان سے مشاورت نہ کی گئی،زمینی حقائق کو نظر انداز کر دیا گیا اور اس قانون کے تحت تمام معاہدہ جات اور پیشگی کو یکسر ختم کردیا گیا اور بدلے میں بھٹہ کاروبار کے لئے کوئی نیا میکنزم بھی نہ دیا گیا اور اس طرح بھٹہ مالکان کے مزدور بھٹوں کو چھوڑ کر چلے گئے جس سے ہزاروں بھٹہ مالکان دیوالیہ ہو گئے۔
ACT-92 ایک جنرل قانون تھا لیکن بد قسمتی سے اس قانون کو بھٹہ خشت انڈسٹری پر مسلط کر دیا گیا۔ بھٹہ خشت کے کاروبار کے زمینی حقائق کو جانے بغیرBonbed ACT کو صرف خصوصاً پاکستان کے تمام بھٹہ مالکان پر لاگو کر دیا گیا۔ اس ایکٹ کو صرف بھٹہ کاروبار کے لئے مخصوص سمجھ لیا گیا۔ ایگریمنٹ اور پیشگی کو غیر قانونی بنا کر بھٹہ کا کاروبار کرنیکا کا طریقہ کار، میکنزم ختم کردیا گیاتھا۔Abolition ACTکی تشریح اور Abolition Rulesکو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنا ہو گا اور بھٹہ کاروبار کے لئے مالکان بھٹہ کے جائز مسائل اور مشکلات کو بلا تعصب مد نظر رکھتے ہوئے زمینی حقائق کے مطابق قانون سازی کرنا ہوگی۔ جس سے بھٹہ مالکان اور بھٹہ مزدور میں پیدا ہونے والی بے چینی اور عدم تحفظ کا خاتمہ ہوسکے۔
بھٹہ خشت میں روائیتی اور رواجی طریقہ کار ختم کرنے کے بعد کوئی متبادل میکنزم نہ دیا گیا۔ متبادل میکنزم نہ ہونے کی وجہ سے یہ کاروبار سابقہ روایات اور رواج کے سسٹم کے مطابق پھر چل پڑافرق صرف اتنا تھا کہ پھرغیر ایگریمنٹ پیشگی کالین دین شروع ہو گیا۔ اور مالکان کی پیشگی ادائیگی کو مالکان بھٹہ کی کمزوری سمجھتے ہوئے بانڈڈ ایکٹ کی خامیوں کی وجہ سے ایگریمنٹ اور پیشگی ادائیگی غیر قانونی ہونے کے باوجود زبانی ایگریمنٹ اور نقد پیشگی ادائیگی جاری رہی۔ نام نہاد غیر سنجیدہ NGOsاور دوسرے مفاد پرست خود غرض و بلیک میلر مزدور رہنماوں نے بانڈڈ ایکٹ کوذاتی منفعت کے لئے استعمال کرتے ہوئے بھٹہ مالکان کو بلیک میل کر کے جگہ جگہ سے پیشگی وصول کرنا شروع کر دیا اور بھٹہ مالکان کے خلاف حبس بیجا کی درخواستوں کی بھرمار و پیشگی رقوم ہڑپ کرنے اور عدالتوں سے مزدورں کو نام نہاد آزادی دلانے اور میڈیا پر خبروں سے پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے حوالے سے پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ایسے عناصر جو پاکستان میں بے چینی کی فضا برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور وہ پاکستان مخالف لابی کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں اور ان سے مالی مفاد حاصل کرتے ہیں اور پاکستان کو بدنام کرتے ہیں اس وجہ سے بھٹہ مالکان بے چینی ، فساد، بد نامی، نقصان اور بلیک میلنگ کا شکار ہورہے ہیں۔
حال ہی میں ایک انٹرنیشنل ادارہ جس کا نام I.L.O﴿انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن﴾ہے جو مزدوروں کی فلاح و بہبود پر کام کرتا ہے اس نے بھٹہ مالکان کے ساتھ مزکرات کیے اور تسلیم کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ پاکستان میں موجودہ قانون بھٹہ انڈسٹری کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اور اس میں قانون سازی کی ضرورت ہے تا کہ اس انڈسٹری کو بچایا جا سکے۔
صدرانجمن مالکان بھٹہ خشت پاکستان محمد شعیب خان نیازی کہتے ہیں کہ اس انڈسٹری کی کوئی مشینری نہیں ہوتی کیونکہ سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے۔ لہذا یہ لیبر اس انڈسٹری کی مشینری ہے جو مشینری کے طور پر کام کرتی ہے جس کے بغیر یہ انڈسٹری کام نہیں کر سکتی۔ شعیب خان نیازی میڈیا ،NGO’s اور لیبر کی فلاح و بہبودپر کام کرنے والی تنظیموں کو کہتے ہیں جو لیبر بانڈڈ پر شورمچاتے ہیں کہ آپ ہی کوئی حل بتائیں کہ یہ لیبر بانڈڈ کا مسلہ حل ہو جائے اور یہ بھی آفر کرتے ہیں کہ میرئے بھٹے کو چلائیں لیبر کو پیشگی دئے بغیر اور ساری کی ساری انوسٹمنٹ میری ہوگی بس آپ لوگوں کو ایک ماڈل بنا کر دے دیں کہ بغیر پیشگی کہ ایسے بھٹے چلتے ہیں جو کہ ناممکن ہے۔
ایک بھٹہ مالک﴿چوہدری امجد علی﴾ کے مطابق میڈیا کو بھٹہ مزدور کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہوتی اور وہ اس کو غلط رنگ دیتے ہیں اور بھٹہ مالک پر بے بنیاد الزام لگاتے ہیں کہ بھٹہ مالک بہت ظالم ہوتے ہیں اور ان کی لیبر گردہ فروش ہوتی ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا اگر کوئی گردہ فروخت کرتا ہے تو یہ اس کا اپنا ذاتی فعل ہوتا ہے۔اگر بھٹہ مالک کو پتہ چل جائے کہ اس کے مزدور نے اپنا گردہ فروخت کر دیا ہے تو وہ اس کو اپنے بھٹے پر کھبی بھی نہیں رکھے گا کیونکہ بھٹہ پر ایک گردے کے ساتھ سخت کام کرنا جان کو خطرے میں ڈالنے کہ مترادف ہو گا۔
اب ہم چائلڈ لیبر پر بات کرتے ہیں کیونکہ یہ مسلہ بھی اس انڈسٹری کا ایک اہم مسلہ ہے۔ بھٹہ مالک کبھی بھی بچوں کو کام پر نہیں لگاتا جبکہ مزدور خود لالچ میں آکر بچوں کو کام پر لگاتے ہیں کیونکہ بھٹے کا سارا کامPice Rate ہوتا ہے۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے بھٹہ اونر اور P.S.T.A﴿پاک سویڈیش ٹیچر ایسوسی ایشن﴾ مل کر کام کر رہی ہے جو تقریباً ہر بھٹہ پر سکول قائم کرتی ہے بھٹہ مالک بلڈنگ، پانی، بجلی اور بنیادی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔
جب اس سلسلے میں شعیب خان نیازی صدر پاکستان بھٹہ اونر ایسوسی ایشن سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ بھٹہ خشت انڈسٹری کا سب سے اہم مسلہ پاکستان لیبر بانڈڈ اور فورس لیبر کا گھناؤنا الزام ہے جس کو ہم بطور بھٹہ اونر ایسو سی ایشن حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر ختم کرنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں I.L.O اور بہت سی مزدور یونین کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک معاہدہ ڈیزائن کیا گیا جو کہ تمام فریقین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اس معاہدہ اجرت کو I.L.O اور تمام افرادی قوت کے اداروں نے سراہا ہے ۔ ہماری حکومت سے گزارش ہے کہ اگر وہ مزدورں کے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے تو مزدورں اور بھٹہ مالکوں کے درمیان فساد اور جھگڑے کو
ختم کرنے کے لئے ان کے درمیان منصفانہ معاہدہ اجرت کو نافذ کرے۔
ڈاکٹر حاجی نذر حسین جنرل سیکرٹری بھٹہ خشت اونر ایسو سی ایشن ضلع قصور کچھ یوں کہتے ہیں کہ میرے مطابق بھٹہ خشت انڈسٹری پر یہ الزام ہے کہ بھٹہ مالکان مزدورں سے زبردستی کم معاوضہ پر کام لیتے ہیں تو ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ بھٹہ مالکان اور بھٹہ مزدورں کے درمیان کوئی ایسا متفقہ لائحہ عمل تشکیل دیں کہ بھٹہ انڈسٹری کے اوپر سے بانڈڈ لیبر کا الزام دھل جائے جس کے لئے ہمارے صدر بھٹہ اونر ایسو سی ایشن نے معاہدہ اجرت ڈرافٹ کر کے حکومتی عہدے داروں اور مختلف این جی اوز اور I.L.Oکو بھی فراہم کیا ہے۔اس اہم مسلے کے علاوہ بھی بھٹہ انڈسٹری بہت سے مسائل òکا شکار ہے جس میں سرفہرست کوئلے کی قیمت میں غیر یقینی اور غیر معمولی اضافہ ہے جس کی وجہ سے انڈسٹری بحران کا شکار ہو گئی ہے حکومت وقت سے اپیل ہے کہ وہ کوئلے مائنز اونرز کو پابند کرے کہ وہ کوئلے کی قیمتوں میں استحکام لائے اور بھٹہ انڈسٹری کو بلیک میل نہ کریں۔
مہر عبدالحق کوآرڈینٹر بھٹہ اونر ایسوسی ایشن پاکستان بھٹہ انڈسٹری کا دفاع کچھ یوں کرتے ہیں کہ بانڈڈ لیبر ایکٹ1992لے تحت بھٹہ مزدور کو پیشگی رقم دینا جرم ہے لیکن بھٹہ مزدور پیشگی رقم کے بغیر کام نہیں کرتا۔کام سر انجام دینے کے عوض یا معاوضہ ایڈوانس دینے اور لینے کا سلسلہ اور نظام پرانا اور خاص طور پر ہمارے ملک کے ہر شعبے میں موجود ہے۔ مثال کہ طور پر ایک سکول ٹیچر اپنی دس ماہ کی تنخواہ ایڈوانس حاصل کرتا ہے اور اس رقم سے اپنے گھریلو اور ذاتی ضروریات کو پورا کرتا ہے لیکن محکمہ تعلیم اسکی تنخواہ سے پیشگی رقم کٹوتی کرتا ہے۔ لیکن اس پر بانڈڈ لیبر ایکٹ لاگو نہیں ہوتا جبکہ بھٹہ خشت پر لاگو ہوتا ہے یہ ایک ظالمانہ قانون اور دوہری پالیسی ہے۔ بانڈڈ لیبر ایکٹ 1992 کا قانون بالکل غلط استعمال ہو رہا ہے یہ صرف مفاد پرست لوگ استعما ل کرتے ہیں اور بھٹہ انڈسٹری کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔پیشگی رقم مزدور کو دینے کے عمل کو اس لئے بھی غلط کہا جاتا ہے کہ مزدور ان پڑھ ہوتے ہیں اور یہ حساب کتاب نہیں کر سکتے اور بھٹہ مالک ناجائز رقم ان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ ان تمام مشکلات او مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بھٹہ ایسو سی ایشن نے I.L.Oکے تعاون سے ایک معاہدہ ڈئزائن کیا ہے اور بھٹہ اونرز ایسو سی ایشن حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مزدور اور بھٹہ مالک کے درمیان ایک معاہدہ تحریر کیا جائے تا کہ کسی بھی بے اعتمادی اور بد دیانتی کا الزام نہ آئے۔ پاکستان کی عدالتیں اور قانون یہ کہتا ہے کہ بھٹہ انڈسٹری کا مزدور جاہل اور ان پڑھ ہے اس لیے وہ معاہدہ نہیں کرسکتا ۔ جو کہ ہماری نظر میں غلط بات ہے کیونکہ ایک جاہل آدمی بھی کروڑوں روپے کی جائیداد انگوٹھا لگا کر کسی اور کی حقوق ملکیت کر سکتا ہے توبھٹہ مزدور کسی مجاذ حکومتی افسر کے سامنے لین دین کے معاہدہ کیوں نہیں کرسکتا۔ ہمارے ملک کا قانون پیشگی رقم خدمات کے عوض دینے کو غلط اور غیر قانونی قرار دیتا ہے لیکن یہ قانون صرف بھٹہ خشت کے کاروبار کے لئے ہے۔ پاکستان میں نرسنگ اور ایئرہوسٹس کی نوکری کرنے والی خواتین جب ملازمت کے لیے درخواست دیتی ہیں تو اس وقت محکمہ ان کو ٹرینگ دینے سے پہلے بانڈ پیپر لکھوا لیتا ہے کہ وہ ٹرینگ کہ بعد مخصوص عرصے تک لازمی نوکری کریں گی اگر وہ درمیان میں نوکری چھوردیتی ہیں تو محکمہ انکے خلاف کارروائی کرے گا تو میرا سوال یہ ہے کہ یہ بانڈڈ لیبر کی اصل شکل نہیں ہے؟
ہمارا حکومت سے مطالبہ یہ ہے کہ بھٹہ خشت انڈسٹری کو مکمل تباہی سے بچائے اور بھٹہ مالک اور مزدور کے درمیاں ایک سال کاتحریری ۔معاہدہ کرویا جائے۔ اگر حکومت ملک سے لیبر بانڈڈ کو ختم کرنا چاہتی ہے تو ہماری تجاویز پر غور کرے۔
ایک بھٹہ مزدور سے جب پوچھا کہ آپ پر کتنا قرضہ ہے تو اس نے کہا کہ میرے اوپر تو کوئی قرضہ نہیں ہے اور نہ ہی میرے کندوں پر کوئی بوجھ ہے اگر ہے تو وہ بھٹہ مالک کے کھاتوں میں ہے۔
معروف معاشرتی جرائم اور ظلم و انصافی کے خلاف دنیا میں سب سے زیادہ بھوک ہڑتالیں کرنے والے مزدور لیڈر احسان اللہ کے پیرو کار اور انسانی حقوق کے علم بردار سوشل لیڈر حکیم زادہ سلیم منور شہید چیر مین ملی مفادات مشترکہ مشنن پاکستان نے بھی بھٹہ مزدوروں پرمظالم کے خلاف بھوک ہڑتالیں کی ہیں مگر جب ان سے خدا خوفی کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے بار بار بھٹہ مزدورں کو مظلوم سمجھ کر انکے حق میں اور بھٹہ مزدوروں کے خلاف آواز اٹھائی مگر تحقیقات پر بار بار بھٹہ مزدوروں کو جھوٹا، دھوکا، مفاد پرست اور بلیک میلرز لیڑئے ہی پایا۔ جس کا کھایا اسی کا نہ گایا والی بات سامنے آئی۔ حکیم زادہ نے مزید کہا کہ وہ حاجی شعیب خان نیازی کو درست سمجھتے ہیں اور ان کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے قانون میں ترمیم چاہتے ہیں اور حکومت سے جنگی بنیادوں پر اصلاح احوال کا مطالبہ ہے ۔ تاکہ اس انڈسٹری کو بچایا جاسکے۔

تحریک منہاج القرآن تحصیل پتوکی کے زیراہتمام31واںماہانہ درس

پتوکی ﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام ﴾تحریک منہاج القرآن تحصیل پتوکی کے زیراہتمام31واںماہانہ درس عرفان القرآن بمقام کمیٹی گرائونڈپتوکی میں بعد نمازفجرمنعقدہوا۔جس میں سینکڑوں خواتین وحضرات نے شرکت کی ۔پروگرام کاباقاعدہ آغازتلاوت قرآن حکیم سے ہوااس کے بعدنعت رسول مقبول öپڑھی گئی ۔ حضورشیخ الاسلام ڈاکٹرمحمدطاہرالقادری کے شاگردِ رشید حضرت علامہ نفیس حسین قادری صاحب نے سورۃ القریش کی روشنی میں گفتگوفرمائی۔مقامی علمائ کرام کی کثیرتعداد اس درس عرفان القرآن میں شریک ہوئی۔اس درس عرفان القرآن میں تحریک منہاج القرآن کی تمام ذیلی تنظیمات منہاج القرآن یوتھ لیگ،منہاج القرآن ویمن لیگ ،مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ کے علاوہ یوسی تنظیمات جن میں سٹی پتوکی کی تمام یونین کونسل، یوسی 56جاگووالہ چک 4،یوسی 77واں آدھن ،یوسی 65بھوپے وال،یوسی 69بھیڈیاںسے قافلوںکی صورت میں خصوصی طورپرشرکت فرمائی۔ آخرمیں درس قرآن میں آنے والے حاضرین میں بذریعہ قرعہ اندازی درس عرفان القرآن کے تحفے تقسیم کیے گئے حاضرین نے تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام ہونے والے اس پروگرام کو بے حدپسند کیا۔پروگرام کااختتام محترم نفیس حسین قادری صاحب کی رقت آمیزدعاپرہوا۔ آئندہ درس عرفان القرآن کاپروگرام مورخہ12جون بروزاتوار کمیٹی گرائونڈمیں ہوگا۔

محکمہ سوئی گیس قصور کی کرپشن پر شہریوں نے سوئی گیس حکام مردہ باد کے نعرے لگا دئیے

قصور ﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام ﴾محکمہ سوئی گیس قصور کی کرپشن پر شہریوں نے سوئی گیس حکام مردہ باد کے نعرے لگا دئیے۔ کرپٹ مینجر عبدالشکور اور اسکے دیگر بد عنوان ساتھیوں کی فوری ملازمت سے برطرفی کا مطالبہ۔ مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں مین روڈ بلاک کرنے اورڈی سی او آفس کے باہر دھرنے کی دھمکی۔ تفصیلات کے مطابق شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے محکمہ سوئی گیس کے خلاف مظاہرہ کے دوران بینرز اْٹھائے، شدید نعرے بازی کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مینجر قصور سوئی گیس عبدالشکور نے اپنے دفتر کے دروازے پر ایجنٹ بٹھا رکھے ہیں اور کسی بھی کام کیلئے جب کوئی بھی شہری دفتر میں داخل ہوتا ہے تو اہلکار اسے معلومات تک فراہم نہیں کرتے بلکہ ان سے بد تمیزی سے پیش آتے ہیں۔ وہی کام باہر بیٹھے ہوئے ایجنٹ بھاری رشوت کے عوض بْک کر لیتے ہیں اور اگلے ہی دن کروا دیتے ہیں۔لوگوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے محکمہ کے دفتر کو ذاتی ڈیرہ اور عیاشی کا اڈا بنا رکھا ہے جہاں مینجر اور دیگر اہلکار لوگوں کو سروسز دینے کی بجائے سگریٹ نوشی اور دیگر قسم کی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ دفتر میں کوئی عورت ان کی غلط حرکات کی وجہ سے جانے سے ڈرتی ہے اور کوئی شریف آدمی ان کی مرضی کے بغیر داخل تک نہیں ہو سکتا۔مظاہرین نے بتایا کہ کئی گلیوں میں جہاں ابھی تک پائپ بھی نہیں ڈالا گیا ، کرپٹ ملازمین اور مینجر نے وہاں کے اہلیان کو بھاری رشوت کے عوض ڈیمانڈ نوٹس بھی ایشو کر دئیے جبکہ جن گلیوں میں سالوں سے گیس چالو ہے وہاں کے رہائشیوں کو ڈیمانڈ نوٹس صر ف اس لئے ایشو نہیں کئے جا رہے کہ وہ رشوت نہیں دے رہے ۔ لوگوں نے بد عنوان ، بد تمیز اور کرپٹ اہلکاروں اور ان کے سرغنہ مینجر کے خلاف حکام بالا سے فوری ایکشن لینے کی پْر زور اپیل کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ان کی اپیل پر عمل نہ ہوا تو وہ مزید بڑی تعداد میں مین روڈ کو بند کر دیں گے اور دھرنے بھی دیں گے۔

ایس پی ٹریفک پولیس شیخوپورہ رینج منصورناجی کی خصوصی ہدا ئت پرسیمنار

سرائے مغل ﴿میرا پتوکی ڈاٹ کام ﴾ایس پی ٹریفک پو لیس شیخو پو رہ رینج منصور نا جی کی خصوصی ہدا ئت پر انچارج ٹریفک قصور ممتاز کر یم نے سرائے مغل پھول نگر وغیرہ میں نا جا ئز اڈے اور نا جا ئز تجا وزات کا خا تمہ کر کے ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے ایک سیمیناکا اہتمام کیا جس میں خصوصی طور پر ڈرائیوروں کو لیکچر دیا اور پمفلٹ تقسیم کئے عوام نے ٹریفک پو لیس قصور کی کا ر کردگی کو سراہا ٹریفک انچارج قصور ممتاز کریم نے کہا کہ راستہ صاف رکھنا ور کھلا رکھنا آپ کے اور عوام کے مفاد میں ہے آپ کی ذرا سی لا پرواہی سے ایمبو لینس وغیرہ بھی رک جا تیں ہیں جن میں انتہا ہی سیریس مرض ہو تے ہیں آخر میںڈرائیوروں میں ٹریفک کی اگا ہی کے لئے پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے ۔

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive