Category - ہفتہ وار رپورٹ

1
جادو سے پناہ کے لیے ٭ رات باوضو سوئیں۔
2
واہگہ بارڈر کی سیراور حکومت کی بے حسی
3
بھٹہ مزدوراور حقائق۔۔۔۔۔ خصوصی رپورٹ
4
خواتین میں نشے کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان
5
بلیک بیری کا بھارتی حکومت کو ڈیٹا تک رسائی دینے سے انکار
6
شمسی طوفان زمین پر سارا نظام درہم برہم کر دے گا: ناسا
7
بوڑھوں کے ’ڈیٹ پوائنٹس‘ کی رونقیں
8
فرانس میں نقاب "قتل"ہو گیا
9
اربو ں انسانو ں کیلئے صرف تیرہ کڑور کتا بیں
10
جگر ہے تو اقبال کے دیس کا حال بھی سن

جادو سے پناہ کے لیے ٭ رات باوضو سوئیں۔

٭ چاروں قل شریف پڑھ کر اپنے پورے جسم کو دم کرلیں کہ یہ سنت رسول اللہ ا ہے۔

Read More

واہگہ بارڈر کی سیراور حکومت کی بے حسی

کل اتفاق سے ایک نجی سکول جمبرکے ساتھ لاہور ٹریپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔بچوں کو جوائے لینڈ پارک لے جایا گیا اور وہاں گھومنے کے بعد واہگہ بارڈر گئے۔ جب ہم وہاں پہنچے اوروہاں کی Read More

بھٹہ مزدوراور حقائق۔۔۔۔۔ خصوصی رپورٹ

آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری کی بات کریں گے جس کے ساتھ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کا روز گار منسلک ہے۔آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس کا کوئی قانون و قاعدہ نہیں۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس کو معاشرے میں بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس پر مختلف قسم کی ملکی و غیر ملکی N.G.O اور میڈیا ظالم اور مظلوم پر بات تو کرتا ہے لیکن کرتا کچھ نہیں۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس کو آج تک حکومت پاکستان نے انڈسٹری کا نام ہی نہیں دیا۔ آج ہم پاکستان کی ایک ایسی انڈسٹری پر بات کریں گئے جس پر آج تک کسی نے تفصیل سے بات نہیں کی اور نہ ہی اصل حقائق پیش کیے ہیں۔
یہ کون سی انڈسٹری ہے جی ہاں یہ انڈسٹری بھٹہ خشت ہے۔ پاکستان کی اس وقت آبادی تقریباً18کروڑکے الگ بھگ ہے۔ جس میں سے دو سے اڑھائی کروڑ آبادی Directlyیا Indirectly بھٹہ انڈسٹری کے ساتھ منسلک ہے۔ اب بات کرتے ہیں کہ اس انڈسٹری میں بنتا کیا ہے اس انڈسٹری میں اینٹیں ﴿Bricks﴾ بنتی ہیں جو کہ کسی گھر، پلازہ تعمیر کرنے کے لیے ایک اہم جز ہے۔ پاکستان میں تقریباً دس ہزار کے الگ بھگ بھٹے ہیں جو ملکی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ پاکستان کی مشہور اور کوالٹی کے اعتبار سیے اعلیٰ اینٹ صوبہ پنجاب کی ہے صوبہ پنجاب میں سے لاہور ڈویثرن اور جبکہ لاہور ڈویثرن میں سے ضلع قصور، ضلع قصور میں سے تحصیل پتوکی اور تحصیل پتوکی میں سے پتوکی اور پھول نگر کا علاقہ شامل ہے۔
آیئے اب ہم اس انڈسٹری کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہیں جس کو معاشرے میں بری نظروں سے کیوں دیکھا جاتا ہے اس انڈسٹری میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے اس کاروبار میں بہت سارے سنگین مسائل ہیں۔ ان مسائل میں انڈسٹری کا مالک بھی پس رہا ہے اور مزدور بھی۔ ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ لیبر کا ہے۔ جس کو میڈیا اور N.G.O بانڈڈ لیبر کا نام دیتی ہیں۔ بانڈڈ لیبر کے مسلہ کو جاننے سے پہلے ہمیں اس انڈسٹری یعنی کہ بھٹہ خشت کے کاروبار کی نوعیت اور اس میں دیگر امور کاروبار کو سمجھنا ضروری ہے اس کے بغیر ہم ظالم اور مظلوم کا فرق نہیں کر سکتے۔
-1 بھٹہ خشت کی انڈسٹری اور دوسری انڈسٹریوں سے 100فیصد مختلف ہے۔
-2بھٹہ خشت کا کاروبار شروع کرنے سے پہلے اینٹ بنانے کے لیے ایک سے لیکر دو مربعہ زمین درکار ہوتی ہے جو کہ ٹھیکہ پر کچھ وقت کے لیے لی جاتی ہے۔تقریباً دو سے اڑھائی ایکڑ زمین پر بھٹہ خشت کی تعمیر کے لیے کچی مٹی کی دیوریں تیار کی جاتی ہیں اور اس کے درمیان اینٹ سے ایک چمنی تعمیر کی جاتی ہے اینٹ بنانے سے پہلے مٹی سے کچی اینٹ بنائی جاتی ہے کچی اینٹ بنانے کے لیے ٹھیکہ پر لی گی زمین پر پانی کا بندوبست کیا جاتا ہے دفتر اور مزدوروں کی رہائش کے لیے چند کواٹر بنائے جاتے ہیں اس طرح اینٹ بنانے کا کارخانہ چند لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو جاتا ہے۔
-3 کارخانے کی تعمیر کے بعد اس کو چلانے کے لیے بھٹہ مالکان مزدوروں سے رابطہ کرتے ہیں اور بھٹہ مالکان ان کو پیشگی (Advance ﴾رقم دیتے ہیں۔ بھٹہ مالکان کے مطابق پیشگی دیناان کی مجبوری ہے اس کے بغیر کاروبار نہیں چلتا جبکہ مختلف قسم کیN.G.Oاور مزدورں کی فلاح و بہبود پر کام کرنے والی تنظیمیں اس کو لیبر بانڈڈ(Labour Bonded)کا نام دیتی ہیں۔ اس انڈسٹری میں سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے جبکہ دوسری انڈسٹریوں میں مشینری Involve ہوتی ہے اور صرف دس فیصد کام ہاتھ سے لیا جاتا ہے۔بھٹہ انڈسٹری میں تین چیزوں کا بڑا عمل و دخل ہوتا ہے۔ 1کچی اینٹ2 آگ3پکی اینٹ۔ اس کاروبار میں کام ایک Chain workکی طرح ہوتا ہے اس چین ورک کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ جب کچی اینٹ بن جاتی ہیں تواس کوپکانے کے لیے بھٹے کے اندر ترتیب سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ا وپر سے آگ گزاری جاتی ہے ۔ آگ گزارنے کے بعد اینٹ پک جاتی ہے اور پکنے کے بعد اس کو بھٹے سے باہر نکالا جاتا ہے۔ اور یہ تینوں کام ایک تسلسل کے ساتھ چلتے رہتے ہیں اگر ان میں سے ایک کام بھی رک جائے یا کوئی تھوڑی سی تاخیر ہو جائے تو اس انڈسٹری کو چند گھنٹوں میں لاکھوں کا نقصان ہو جاتا ہے۔ اس چین ورک میں کسی قسم کی مشینری استعمال نہیں ہوتی۔یہ سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے جو مزدور کرتے ہیں۔بھٹہ انڈسٹری مالک کے مطابق یہ وہ امر ہے جس میں لیبر مالک کو بانڈ اور پابند کرتی ہے نہ کہ مالک لیبر کو۔ کیوں کہ لیبر کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم کام نہ کریں گئے تو مالک کا نقصان ہو جائے گا۔اس لیے لیبر کو پیشگی رقم دینا ہماری مجبوری ہے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔بھٹہ مالکان کے مطابق ہم پیشگی رقم دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ حالانکہ لیبر ہم سے خود پیشگی کا مطالبہ کرتی ہے ۔ آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ بھٹہ مالکان اور مزدور کی پیشگی کا طریقہ کار:
مزدور جب بھی کسی بھٹے پر کام کرنے کے لیے آتا ہے تو اس کا ایک باقاعدہ ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ بھٹہ مالک اور مزدور کے درمیان ایک معاہدہ طے پاتا ہے۔یہ معاہدہ ایک سال کا ہوتا ہے جس کا دورانیہ دیسی مہینے ہارڈ کی 15 سے 15ہارڈ تک ہوتا ہے۔ جب مزدور کسی بھٹے پر آتا ہے تو وہ سب سے پہلے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے یعنی کہ پیشگی کا۔ دراصل یہ پیسے اس نے بھٹے والے کو ادا کرنے ہوتے ہیں جس پر وہ پہلے کام کرتا تھا۔ اور موجودہ بھٹہ مالک جائز پیسے دیکھتے ہوئے اس کو ادا کر دیتا ہے اور مزدور کے ساتھ معاہدہ طے کر لیتا ہے ۔
۱۔ ریٹ طے کیا جاتا ہے فی ہزار اینٹ کے حساب سے
۲۔ یہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ مالک ہر جمعرات کو مزدور کو اس کی مزدوری دے گا۔
۳۔ریٹ کا چوتھائی حصہ کٹوتی ہو گا تا کہ مزدور کی پیشگی ختم ہو سکے۔
۴۔ مزدور پابند ہو گا کہ وہ ایمانداری کے ساتھ اپنا پورا سال کا م کرے ۔
۵۔ بھٹہ مالک مزدور کو 15 فیصد کمیشن مزدور کے کام پر ادا کرے گا۔جو کہ ایک طرح مزدور کا پورے سال کا بونس ہوتا ہے۔
۶۔ بھٹہ مالک مزدور کو فری رہائش بھی دے گا اگر وہ رہنا چاہے تو۔
۷۔ بھٹہ مالک مزدور کو فری بجلی پانی کی سہولت بھی دے گا۔
۸۔ اگر مزدور کسی قسم کی غیرقانونی سرگرمیوں میں پایا گیا تو اس کا وہ خود ذمہ دار ہو گا﴿ چوری، ڈکیتی وغیرہ﴾
۹۔ معاہدہ کی مدت پوری ہونے کے بعد اگر مزدور کی مرضی ہو تو وہ مزید بھٹے پر کام کر سکتا ہے اگر مرضی نہ ہو تو وہ بھٹہ مالک سے حساب کروا کر بقایا رقم ادا کر کے کسی بھی بھٹے پر جا سکتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں کہ مزدور کا بھٹہ پر کام کرنے کا طریقہ کار:
یہ بھٹہ انڈسٹری دیہاتی علاقوں میں واقع ہوتی ہے اس لیے مزدور کام کرنے کے لیے آتے ہیں اور کام کرنے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ بعض مزدور اپنی فیملی کے ساتھ بھٹوں پر ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ جن کو مالکان بھٹہ فری رہائش فراہم کرتاہے اس انڈسٹری کا تعلق موسموں کے زیر اثر رہتا ہے۔ جبکہ موسمی حالات کے پیش نظر یہ انڈسٹری گرمیوں یعنی کہ مون سون اور شدید سردی میں بند ہوجاتی ہے۔ اس لیے مزدور بھٹہ پر کام کرنے کے لیے اپنے اوقات کار اپنی سہولت کے مطابق خود طے کرتے ہیںاور چھٹی کرنے اور کام کرنے کے اوقات کے معاملے میں خود مختار اور آزاد ہوتے ہیں۔ اس میں مالک کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا کیوں کہ یہ سارا کامPice Rate پر ہوتا ہے۔ بھٹہ مالک ہمیشہ میڈیا اور این۔جی۔ او ز کا الزام بے بنیاد قرار دیتاہے کہ مالک مزدور سے سارا دن کام کرواتے ہیں اور اجرت کم دیتے ہیں۔ کیوں کہ یہ میڈیا اور این۔ جی۔ او اصل حقائق سے نا واقف ہوتے ہیں۔ دراصل بھٹہ جات پر حالات، واقعات کے بعد زمینی حقائق کے مطابق قا نون سازی کی ضرورت تھی مگر ہماری حکومت نے Indian ACT کی ہو بہو نقل کرتے ہوئے اس قانون کو پاکستان میں بھی لاگو کر دیا۔ جس سے حالات میں بگاڑ پیدا ہو کر پیچیدگیاں بڑھ گئی۔
بانڈڈ لیبر ایکٹ1992ئ کی وجہ سے بھٹہ خشت کے کاروباری مسائل:
1987-88ئ میں جسٹس محمد افضل ظلہ صاحب﴿سپریم کورٹ آف پاکستان﴾ نے ایک از خود نوٹس کیس میں تمام متعلقہ فرقین کے حالات واقعات کو تفصیل سے سن کر فیصلہ دیا جس میں حکومت پاکستان کو بانڈڈلیبر سسٹم کے خاتمہ کے لئے قانون سازی کی ڈائریکشن دی کہ پاکستان میں قانون بنایا جائے اور وہ انڈیا میں رائج بانڈڈلیبر خاتمہ ایکٹ1976ئ کی طرز کا نہ ہو۔بلکہ وہ پاکستان کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر بنایا جائے۔ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ حکومت پاکستان نے بانڈڈ لیبر ایکٹ1992ئ بالکل انڈیا میں رائج بانڈڈ لیبر ایکٹ1976ئ کی نقل کر کے بنایا اور اس سلسلہ میں مزدور اور مالکان سے مشاورت نہ کی گئی،زمینی حقائق کو نظر انداز کر دیا گیا اور اس قانون کے تحت تمام معاہدہ جات اور پیشگی کو یکسر ختم کردیا گیا اور بدلے میں بھٹہ کاروبار کے لئے کوئی نیا میکنزم بھی نہ دیا گیا اور اس طرح بھٹہ مالکان کے مزدور بھٹوں کو چھوڑ کر چلے گئے جس سے ہزاروں بھٹہ مالکان دیوالیہ ہو گئے۔
ACT-92 ایک جنرل قانون تھا لیکن بد قسمتی سے اس قانون کو بھٹہ خشت انڈسٹری پر مسلط کر دیا گیا۔ بھٹہ خشت کے کاروبار کے زمینی حقائق کو جانے بغیرBonbed ACT کو صرف خصوصاً پاکستان کے تمام بھٹہ مالکان پر لاگو کر دیا گیا۔ اس ایکٹ کو صرف بھٹہ کاروبار کے لئے مخصوص سمجھ لیا گیا۔ ایگریمنٹ اور پیشگی کو غیر قانونی بنا کر بھٹہ کا کاروبار کرنیکا کا طریقہ کار، میکنزم ختم کردیا گیاتھا۔Abolition ACTکی تشریح اور Abolition Rulesکو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنا ہو گا اور بھٹہ کاروبار کے لئے مالکان بھٹہ کے جائز مسائل اور مشکلات کو بلا تعصب مد نظر رکھتے ہوئے زمینی حقائق کے مطابق قانون سازی کرنا ہوگی۔ جس سے بھٹہ مالکان اور بھٹہ مزدور میں پیدا ہونے والی بے چینی اور عدم تحفظ کا خاتمہ ہوسکے۔
بھٹہ خشت میں روائیتی اور رواجی طریقہ کار ختم کرنے کے بعد کوئی متبادل میکنزم نہ دیا گیا۔ متبادل میکنزم نہ ہونے کی وجہ سے یہ کاروبار سابقہ روایات اور رواج کے سسٹم کے مطابق پھر چل پڑافرق صرف اتنا تھا کہ پھرغیر ایگریمنٹ پیشگی کالین دین شروع ہو گیا۔ اور مالکان کی پیشگی ادائیگی کو مالکان بھٹہ کی کمزوری سمجھتے ہوئے بانڈڈ ایکٹ کی خامیوں کی وجہ سے ایگریمنٹ اور پیشگی ادائیگی غیر قانونی ہونے کے باوجود زبانی ایگریمنٹ اور نقد پیشگی ادائیگی جاری رہی۔ نام نہاد غیر سنجیدہ NGOsاور دوسرے مفاد پرست خود غرض و بلیک میلر مزدور رہنماوں نے بانڈڈ ایکٹ کوذاتی منفعت کے لئے استعمال کرتے ہوئے بھٹہ مالکان کو بلیک میل کر کے جگہ جگہ سے پیشگی وصول کرنا شروع کر دیا اور بھٹہ مالکان کے خلاف حبس بیجا کی درخواستوں کی بھرمار و پیشگی رقوم ہڑپ کرنے اور عدالتوں سے مزدورں کو نام نہاد آزادی دلانے اور میڈیا پر خبروں سے پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے حوالے سے پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ایسے عناصر جو پاکستان میں بے چینی کی فضا برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور وہ پاکستان مخالف لابی کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں اور ان سے مالی مفاد حاصل کرتے ہیں اور پاکستان کو بدنام کرتے ہیں اس وجہ سے بھٹہ مالکان بے چینی ، فساد، بد نامی، نقصان اور بلیک میلنگ کا شکار ہورہے ہیں۔
حال ہی میں ایک انٹرنیشنل ادارہ جس کا نام I.L.O﴿انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن﴾ہے جو مزدوروں کی فلاح و بہبود پر کام کرتا ہے اس نے بھٹہ مالکان کے ساتھ مزکرات کیے اور تسلیم کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ پاکستان میں موجودہ قانون بھٹہ انڈسٹری کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اور اس میں قانون سازی کی ضرورت ہے تا کہ اس انڈسٹری کو بچایا جا سکے۔
صدرانجمن مالکان بھٹہ خشت پاکستان محمد شعیب خان نیازی کہتے ہیں کہ اس انڈسٹری کی کوئی مشینری نہیں ہوتی کیونکہ سارا کام ہاتھ سے ہوتا ہے۔ لہذا یہ لیبر اس انڈسٹری کی مشینری ہے جو مشینری کے طور پر کام کرتی ہے جس کے بغیر یہ انڈسٹری کام نہیں کر سکتی۔ شعیب خان نیازی میڈیا ،NGO’s اور لیبر کی فلاح و بہبودپر کام کرنے والی تنظیموں کو کہتے ہیں جو لیبر بانڈڈ پر شورمچاتے ہیں کہ آپ ہی کوئی حل بتائیں کہ یہ لیبر بانڈڈ کا مسلہ حل ہو جائے اور یہ بھی آفر کرتے ہیں کہ میرئے بھٹے کو چلائیں لیبر کو پیشگی دئے بغیر اور ساری کی ساری انوسٹمنٹ میری ہوگی بس آپ لوگوں کو ایک ماڈل بنا کر دے دیں کہ بغیر پیشگی کہ ایسے بھٹے چلتے ہیں جو کہ ناممکن ہے۔
ایک بھٹہ مالک﴿چوہدری امجد علی﴾ کے مطابق میڈیا کو بھٹہ مزدور کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہوتی اور وہ اس کو غلط رنگ دیتے ہیں اور بھٹہ مالک پر بے بنیاد الزام لگاتے ہیں کہ بھٹہ مالک بہت ظالم ہوتے ہیں اور ان کی لیبر گردہ فروش ہوتی ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا اگر کوئی گردہ فروخت کرتا ہے تو یہ اس کا اپنا ذاتی فعل ہوتا ہے۔اگر بھٹہ مالک کو پتہ چل جائے کہ اس کے مزدور نے اپنا گردہ فروخت کر دیا ہے تو وہ اس کو اپنے بھٹے پر کھبی بھی نہیں رکھے گا کیونکہ بھٹہ پر ایک گردے کے ساتھ سخت کام کرنا جان کو خطرے میں ڈالنے کہ مترادف ہو گا۔
اب ہم چائلڈ لیبر پر بات کرتے ہیں کیونکہ یہ مسلہ بھی اس انڈسٹری کا ایک اہم مسلہ ہے۔ بھٹہ مالک کبھی بھی بچوں کو کام پر نہیں لگاتا جبکہ مزدور خود لالچ میں آکر بچوں کو کام پر لگاتے ہیں کیونکہ بھٹے کا سارا کامPice Rate ہوتا ہے۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے بھٹہ اونر اور P.S.T.A﴿پاک سویڈیش ٹیچر ایسوسی ایشن﴾ مل کر کام کر رہی ہے جو تقریباً ہر بھٹہ پر سکول قائم کرتی ہے بھٹہ مالک بلڈنگ، پانی، بجلی اور بنیادی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔
جب اس سلسلے میں شعیب خان نیازی صدر پاکستان بھٹہ اونر ایسوسی ایشن سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ بھٹہ خشت انڈسٹری کا سب سے اہم مسلہ پاکستان لیبر بانڈڈ اور فورس لیبر کا گھناؤنا الزام ہے جس کو ہم بطور بھٹہ اونر ایسو سی ایشن حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر ختم کرنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں I.L.O اور بہت سی مزدور یونین کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک معاہدہ ڈیزائن کیا گیا جو کہ تمام فریقین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اس معاہدہ اجرت کو I.L.O اور تمام افرادی قوت کے اداروں نے سراہا ہے ۔ ہماری حکومت سے گزارش ہے کہ اگر وہ مزدورں کے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے تو مزدورں اور بھٹہ مالکوں کے درمیان فساد اور جھگڑے کو
ختم کرنے کے لئے ان کے درمیان منصفانہ معاہدہ اجرت کو نافذ کرے۔
ڈاکٹر حاجی نذر حسین جنرل سیکرٹری بھٹہ خشت اونر ایسو سی ایشن ضلع قصور کچھ یوں کہتے ہیں کہ میرے مطابق بھٹہ خشت انڈسٹری پر یہ الزام ہے کہ بھٹہ مالکان مزدورں سے زبردستی کم معاوضہ پر کام لیتے ہیں تو ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ بھٹہ مالکان اور بھٹہ مزدورں کے درمیان کوئی ایسا متفقہ لائحہ عمل تشکیل دیں کہ بھٹہ انڈسٹری کے اوپر سے بانڈڈ لیبر کا الزام دھل جائے جس کے لئے ہمارے صدر بھٹہ اونر ایسو سی ایشن نے معاہدہ اجرت ڈرافٹ کر کے حکومتی عہدے داروں اور مختلف این جی اوز اور I.L.Oکو بھی فراہم کیا ہے۔اس اہم مسلے کے علاوہ بھی بھٹہ انڈسٹری بہت سے مسائل òکا شکار ہے جس میں سرفہرست کوئلے کی قیمت میں غیر یقینی اور غیر معمولی اضافہ ہے جس کی وجہ سے انڈسٹری بحران کا شکار ہو گئی ہے حکومت وقت سے اپیل ہے کہ وہ کوئلے مائنز اونرز کو پابند کرے کہ وہ کوئلے کی قیمتوں میں استحکام لائے اور بھٹہ انڈسٹری کو بلیک میل نہ کریں۔
مہر عبدالحق کوآرڈینٹر بھٹہ اونر ایسوسی ایشن پاکستان بھٹہ انڈسٹری کا دفاع کچھ یوں کرتے ہیں کہ بانڈڈ لیبر ایکٹ1992لے تحت بھٹہ مزدور کو پیشگی رقم دینا جرم ہے لیکن بھٹہ مزدور پیشگی رقم کے بغیر کام نہیں کرتا۔کام سر انجام دینے کے عوض یا معاوضہ ایڈوانس دینے اور لینے کا سلسلہ اور نظام پرانا اور خاص طور پر ہمارے ملک کے ہر شعبے میں موجود ہے۔ مثال کہ طور پر ایک سکول ٹیچر اپنی دس ماہ کی تنخواہ ایڈوانس حاصل کرتا ہے اور اس رقم سے اپنے گھریلو اور ذاتی ضروریات کو پورا کرتا ہے لیکن محکمہ تعلیم اسکی تنخواہ سے پیشگی رقم کٹوتی کرتا ہے۔ لیکن اس پر بانڈڈ لیبر ایکٹ لاگو نہیں ہوتا جبکہ بھٹہ خشت پر لاگو ہوتا ہے یہ ایک ظالمانہ قانون اور دوہری پالیسی ہے۔ بانڈڈ لیبر ایکٹ 1992 کا قانون بالکل غلط استعمال ہو رہا ہے یہ صرف مفاد پرست لوگ استعما ل کرتے ہیں اور بھٹہ انڈسٹری کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔پیشگی رقم مزدور کو دینے کے عمل کو اس لئے بھی غلط کہا جاتا ہے کہ مزدور ان پڑھ ہوتے ہیں اور یہ حساب کتاب نہیں کر سکتے اور بھٹہ مالک ناجائز رقم ان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ ان تمام مشکلات او مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بھٹہ ایسو سی ایشن نے I.L.Oکے تعاون سے ایک معاہدہ ڈئزائن کیا ہے اور بھٹہ اونرز ایسو سی ایشن حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مزدور اور بھٹہ مالک کے درمیان ایک معاہدہ تحریر کیا جائے تا کہ کسی بھی بے اعتمادی اور بد دیانتی کا الزام نہ آئے۔ پاکستان کی عدالتیں اور قانون یہ کہتا ہے کہ بھٹہ انڈسٹری کا مزدور جاہل اور ان پڑھ ہے اس لیے وہ معاہدہ نہیں کرسکتا ۔ جو کہ ہماری نظر میں غلط بات ہے کیونکہ ایک جاہل آدمی بھی کروڑوں روپے کی جائیداد انگوٹھا لگا کر کسی اور کی حقوق ملکیت کر سکتا ہے توبھٹہ مزدور کسی مجاذ حکومتی افسر کے سامنے لین دین کے معاہدہ کیوں نہیں کرسکتا۔ ہمارے ملک کا قانون پیشگی رقم خدمات کے عوض دینے کو غلط اور غیر قانونی قرار دیتا ہے لیکن یہ قانون صرف بھٹہ خشت کے کاروبار کے لئے ہے۔ پاکستان میں نرسنگ اور ایئرہوسٹس کی نوکری کرنے والی خواتین جب ملازمت کے لیے درخواست دیتی ہیں تو اس وقت محکمہ ان کو ٹرینگ دینے سے پہلے بانڈ پیپر لکھوا لیتا ہے کہ وہ ٹرینگ کہ بعد مخصوص عرصے تک لازمی نوکری کریں گی اگر وہ درمیان میں نوکری چھوردیتی ہیں تو محکمہ انکے خلاف کارروائی کرے گا تو میرا سوال یہ ہے کہ یہ بانڈڈ لیبر کی اصل شکل نہیں ہے؟
ہمارا حکومت سے مطالبہ یہ ہے کہ بھٹہ خشت انڈسٹری کو مکمل تباہی سے بچائے اور بھٹہ مالک اور مزدور کے درمیاں ایک سال کاتحریری ۔معاہدہ کرویا جائے۔ اگر حکومت ملک سے لیبر بانڈڈ کو ختم کرنا چاہتی ہے تو ہماری تجاویز پر غور کرے۔
ایک بھٹہ مزدور سے جب پوچھا کہ آپ پر کتنا قرضہ ہے تو اس نے کہا کہ میرے اوپر تو کوئی قرضہ نہیں ہے اور نہ ہی میرے کندوں پر کوئی بوجھ ہے اگر ہے تو وہ بھٹہ مالک کے کھاتوں میں ہے۔
معروف معاشرتی جرائم اور ظلم و انصافی کے خلاف دنیا میں سب سے زیادہ بھوک ہڑتالیں کرنے والے مزدور لیڈر احسان اللہ کے پیرو کار اور انسانی حقوق کے علم بردار سوشل لیڈر حکیم زادہ سلیم منور شہید چیر مین ملی مفادات مشترکہ مشنن پاکستان نے بھی بھٹہ مزدوروں پرمظالم کے خلاف بھوک ہڑتالیں کی ہیں مگر جب ان سے خدا خوفی کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے بار بار بھٹہ مزدورں کو مظلوم سمجھ کر انکے حق میں اور بھٹہ مزدوروں کے خلاف آواز اٹھائی مگر تحقیقات پر بار بار بھٹہ مزدوروں کو جھوٹا، دھوکا، مفاد پرست اور بلیک میلرز لیڑئے ہی پایا۔ جس کا کھایا اسی کا نہ گایا والی بات سامنے آئی۔ حکیم زادہ نے مزید کہا کہ وہ حاجی شعیب خان نیازی کو درست سمجھتے ہیں اور ان کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے قانون میں ترمیم چاہتے ہیں اور حکومت سے جنگی بنیادوں پر اصلاح احوال کا مطالبہ ہے ۔ تاکہ اس انڈسٹری کو بچایا جاسکے۔

خواتین میں نشے کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان

بڑھتے ہوئے مسائل نے خواتین کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ حالات میں تیزی سے ہونے والی ابتری نے انہیں ذہنی مسائل سے دوچار کردیا ہے۔ اس ذہنی کرب سے نکلنے کے لیے اب خواتین بھی تیزی سے نشے کی لت میں مبتلا ہونے لگی ہیں۔ جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

عورتوں میں نشہ کی شرح بڑھتی جارہی ہے جو کافی خطرناک ہے۔ غریب عورت اپنے مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لیے نشہ کو بہترین ساتھی تصور کرتی ہیں۔ وہ خواتین جن کے پاس وافر مقدار میں پیسہ ہوتا ہے وہ دوسری بیگمات کی دیکھا دیکھی نشہ شروع کردیتی ہیں۔خواتین میں نشے کا پھیلتا ہوا زہر حالات کی خرابی، گھریلو نامساعد حالات اور معاشی پریشانیوں کی وجہ سے فروغ پذیر ہے۔

ہیروئن کا نشہ 1980ءکی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ اس مکروہ دھندے نے آہستہ آہستہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اونچے طبقے کی خواتین میں نشہ کرنے کی شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں سرفہرست سگریٹ نوشی ہے۔ دراصل ان خواتین کا ماحول آزادنہ قسم کا ہوتا ہے۔ مردو عورت میں کوئی فرق نہیں سمجھا جاتا یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں نشہ معیوب نہیں۔

پھر سگریٹ سے آگے بڑھ کر یہ شراب نوشی بھی شروع کردیتی ہیں۔ ایک ایسی ہی مالدار خاتون سے نشے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا: ”یہ ہمارے اسٹیٹس کی علامت ہے۔ ہمیں اپنے مغربی طرز کے رہن سہن کو برقرار رکھنے کے لیے یہ سب کرنا پڑتا ہے۔“

زیادہ تر اونچے طبقے کی 15 سے 25 سالہ لڑکیاں نشہ بالخصوص سگریٹ نوشی کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض تو ہیروئن بھی پیتی ہیں۔

ایک کالج کی لڑکی نے بتایا کہ تین سال پہلے اسے ہیروئن پینے کی لت لگی۔ وہ شروع میں ایک آدھ سگریٹ پیتی تھی اس کے بعد یہ آہستہ آہستہ اس کی ضرورت بنتی چلی گئی۔ ہیروئن نہ ملنے پر شدید تکلیف ہوتی ہے۔ ہاتھ پاوں اور کمر میںدرد ہوتا ہے۔ ایسے میں زیادہ شدید درد ہڈیوں میں ہوتا ہے جسے دور کرنے کے لیے ہیروئن پینی پڑتی ہے۔

اس طرح کی کئی لڑکیاں تو نشے کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں مگر اس کے باوجود یہ عادت ان سے نہیں چھوٹتی۔ بعض کاروباری لڑکیاں اس قبیح دھندے میں ملوث ہوتی ہیں۔وہ کالجوں میں لڑکیوں میں نشہ کی عادت ڈالتی ہیں۔

شروع شروع میں ایک لڑکی نشہ کرتی ہے۔ رفتہ رفتہ اس کے پورے گروپ میں نشہ کی یہ وباءپھیل جاتی ہے۔ شروع میں شوقیہ نشہ کرتی ہیں مگر پھر عادی ہوجاتی ہیں۔ لاعلمی کی وجہ سے بھی بعض لڑکیاں نشہ کرنے لگتی ہیں۔

ہاسٹلز میں رہنے والی بعض لڑکیاں ایسے خاندانوں سے ہوتی ہیں جن میں کچھ مسائل پائے جاتے ہیں۔ جب وہ امتحانوں میں ناکام ہوتی ہیں تو وہ نشہ شروع کردیتی ہیں۔ یہ عورتیں نشہ کی اتنی عادی ہو چکی ہوتی ہیں کہ وہ ہیروئن کو سرنج کی مدد خود ہی اپنے بازو میں اتارتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان عورتوں تک نشہ پہنچاتا کون ہے؟ نشہ کو ملک میں پھیلانے کے لیے بہت سارے گروہ کام کررہے ہیں۔ جن میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ یہی لوگ عورتوں کو نشہ کے عادی بنارہے ہیں۔ نشہ باز خواتین اپنا علاج نہیں کرواتیں کیوں کہ وہ سمجھتی ہیں اس طرح ان کی بدنامی ہوگی۔

زیادہ نشہ استعمال کرنے کی وجہ سے بہت ساری خواتین پاگل بھی ہو جاتی ہیں۔ شوبز سے تعلق رکھنے والی بعض لڑکیاں شراب اور چرس استعمال کرتی ہیں۔

خیال ہے کہ لڑکیاں زیادہ چرس استعمال کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ شراب کا استعمال شروع کردیتی ہیں۔ قبائلی علاقے کی عورتیں نسوار رکھتی ہیں۔

الیکڑانک میڈیا پر نشے کو گلیمرسے انداز میں دکھانا بھی خواتین میں نشے کا باعث بنتا ہے۔ شراب اور سگریٹ وغیرہ کو ایسے دلکش انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ خواہ مخواہ ہی سگریٹ اور شراب پینے کو دل چاہتا ہے۔ ان چیزوں کو استعمال کرنے والوں کو اتنا صاف گواور بہادر دکھایا جاتا ہے کہ لوگ اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

بلیک بیری کا بھارتی حکومت کو ڈیٹا تک رسائی دینے سے انکار

بلیک بیر ی موبائیل ٹیلی فون بنانے والے کینیڈا کے ادارے ریسرچ ان موشن نے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ بھارت کے سیکیورٹی اہلکاروں کو کارپوریٹ میل سروس کے ڈیٹا تک رسائی نہیں دی جاسکتی ۔بھارت نے ریسرچ ان موشن کو اس ماہ کے آخر تک ایسا کوئی طریقہ کار وضع کر نے کے لیے کہا تھا جس کے تحت سیکیورٹی فورسزبلیک بیر ی کے ڈیٹا تک رسائی حاصل حاصل کر سکیں وگرنہ اس سروس کو بند کر نا پڑے گا ۔ریسر چ ان موشن کے سنیئر ایگزیکٹورابرٹ کرونے کہا ہے ایسا کوئی طریقہ نہیںنکالا جا سکتا ۔نئی دہلی میں اخبار نویسوں سے گفتگو میں رابرٹ نے کہا ای میل سر وس کی کلید کا رپوریٹ اداروں کی ملکیت ہوتی ہے اس لیے کوئی طر یقہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اس تک دوسروں کو رسائی ہو سکے ۔بھارت کا کہنا ہے دہشت گرد اس سروس کی مدد سے کاروائیاں کرسکتے ہیں۔اس ماہ کے شر وع میں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ ریسر چ ان موشن نے بھارت کو بلیک بیری کی انسٹنٹ میسجنگ سر وس کو مانیٹر کر نے کاطر یقہ بتا دیا ہے تاہم رابرٹ کرو نے کہا بلیک بیری کی کارپوریٹ ای میل سروس ایک ایسا معاملہ ہے جس کا صنعت کی بنیاد پر حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

شمسی طوفان زمین پر سارا نظام درہم برہم کر دے گا: ناسا

کیلی فورنیا: خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے خبردار کیا ہے کہ چند برسوں کے اندر سورج کی تپش میں اضافے سے زمین پر بجلی کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ الیکٹرانک کی اشیائ، نیوی گیشن کے آلات اور مصنوعی سیارے کام کرنا بند کر دیں گے۔ خلائی تحقیق سے جڑے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سورج کی لہروں کے باعث اتنی زیادہ مقناطیسی طاقت پیدا ہو گی جس سے زمین پر روز مرہ معمولات بری طرح سے متاثر ہوں گے۔ سورج کا یہ طوفان آسمانی بجلی کے جھٹکے جیسا ہو گا جس سے زمین پر ہیلتھ ایمرجنسی سروسز اور نیشنل سیکیورٹی کے اداروں پر زد پڑے گی۔ الیکٹرانک کی تمام اشیاءمقناطیسی قوت سے اثر پذیر ہوتی ہیں اس لئے سورج کی تپش میں اضافے سے اربوں ڈالر مالیت کا سامنا خراب ہو جائے گا۔ ناسا کے ماہر ڈاکٹر رچرڈ نشر نے کہا ہے کہ جدید دنیا کا انحصار الیکٹرانک مصنوعات پر ہے۔ ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ شمسی طوفان آ رہا ہے لیکن یہ کتنا نقصان پہنچائے گا اس کا ہمیں پورا پتہ نہیں ہے۔ یہ طوفان سیٹلائٹس اور کار نیوی گیشن سسٹم، فضائی سنٹر، بینکاری نظام، ہمارے کمپیوٹرز اور ہر وہ چیز جو الیکٹرانک ہے، اس پر اثر ڈالے گا۔ بڑے بڑے علاقے بجلی کی فراہمی سے محروم ہو جائی ںگے۔ زمین پرمقناطیسی کشش اس طرح اثر انداز ہو گی جس طرح آسمانی بجلی گرتی ہے۔

بوڑھوں کے ’ڈیٹ پوائنٹس‘ کی رونقیں

بیجنگ  چین میں” ڈیٹنگ ایجنسیاں“ اپنے عروج پر ہیں۔ چین میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے چین کے لوگوں کو اپنی زندگی کا ہمسفر ڈھونڈنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے چین کے متعدد اکیلے افراد ان” ڈیٹنگ ایجنسیوں“ کا سہارا لیتے ہیں۔اس اکیلے پن کی سب سے بڑی وجہ چینی حکومت کی بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کے لئے بنائی گئی ناقص حکمت عملی ہے۔ چین میں ڈیٹنگ ایجنسیوں کا سہارا لینے والے زیادہ تر افراد کی عمر تیس کے لگ بھگ ہے۔

فرانس میں نقاب "قتل"ہو گیا

پیرس, فرانس نے نقاب پر پابندی کو تمام مراحل پورے کر لئے ہیں جس کے بعد اب کسی کوبھی نقاب پہننے کی اجازت نہ ہو گی اور خلاف ورزی کرنے والا جرم کا مرتکب ٹھہرے گا اور اسے 350یورو جرمانہ کیا جائے گا جبکہ خواتین کو زبردستی نقاب پہننے پر مجبور کرنے پر30ہزار یورو جرمانے کے ساتھ ایک سال قید کی سزا بھی سنائی جائے گی۔برقعے کی حمایت کرنے والی تنظیموں نے اس فیصلے کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا ہے جبکہ فرانس کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دیگر امور کے ساتھ ساتھ خواتین کو جبراً نقاب پہنانے سے تحفظ فراہم کرنا ہے

اربو ں انسانو ں کیلئے صرف تیرہ کڑور کتا بیں

booksایک تحقیق کے مطابق دنیا میں کتب کی کل تعداد 12 کروڑ 98 لاکھ64 ہزار 8 سو 80 ہے۔ یہ تحقیق معروف انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے کی ہے۔ تحقیق سے قبل یہ طے کیا گیا کہ کونسا اور کتنا مواد کتاب کی تعریف اور معنی پر پورا اترتا ہے، بعد میں مختلف ناموں سے شائع ہونے والی ایسی ہی ایک سے زائد کتابوں کو ایک تصور کیا گیا جو نام بدل کر اسی متن کے ساتھ یا دوسرے مصنف اور بپلیشر کے نام پر شائع ہوئیں۔ اسی طرح ایک کتاب کی ایک سے زائد شائع ہونے والی جلدوں کو بھی ایک کتاب قرار دیا گیا ہے۔

جگر ہے تو اقبال کے دیس کا حال بھی سن

9339_Target killing in sialkoat 1سنگساری کا عمل دیکھ کر عبرت ہوتی ہے تو ایسے عمل کو کس طرح دیکھا جاسکتا ہے کہ دو نوجوانوں کوزمیں پر لٹا کر ڈنڈوں اور آہنی راڈوں سے مار مار کر مار دیا جائے ,انکی چیخوں سے آسماں گرے نہ زمیں پھٹے ،لوگوں کی بڑی تعداد یہ ”تماشا “ دیکھتی رہی جبکہ یہ دلخراش منظر پولیس اور ہنگامی امدادی ادارے ریسکیو 1122کے عملے کی نگرانی میں ہو رہا ہو، کوئی ان کی چیخ سن کر مدد کو نہ پہنچے اور وہ سب کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دیدیں پھر انہیں الٹا لٹکا دیا جائے ۔ یہ نہ تو کوئی فلمی کہانی اور نہ ہی کسی جنگل میں پیش آنے والا واقعہ بلکہ شاعر مشرق کے شہر سیالکوٹ کے شہریوں کا آنکھوں دیکھا وہ منظر ہے جس میں مارنے والے شامل تھے ، کچھ تحفظ دینے والے اور کچھ تماشا ئی تھے ،بچانے والا کوئی نہیں تھا اور پھر یہ سماجی اور ریاستی ہشت گردی ذرائع ابلاغ میں بھی پولیس کی روایتی کہانی بن کر شائع ہوگئی لیکن اب سیالکوٹ پولیس اور سماجی دہشت گردی پوری طرح کھل کر سامنے آگئی ہے تاہم ” انصاف “ کے ضمن میں ابھی بھی مظلوم خاندان اور اس ”دہشت گردی “ سے رنجیدہ حلقے مضطرب اور تشویش میں مبتلا ہیں کہ انصاف کس طرح اور کس کو ملے گا جبکہ سیالکوٹ میں جانوں کے ضیاع کا کبھی مول نہیں پڑا خواہ وہ ججوں کا قتل ہی کیوں نہ ہو اور پھر قانون کے نازک شکنجوں سے دو ”محافظ “ فرار بھی ہو گئے ہیں اور وہ ایسے وقت میں فرار ہوئے یا کرائے گئے ہیں جب عدالت عظمیٰ اور عدلت عالیہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیکر کارروائی کررہی ہیں اور عدالتی کارروائی ہی کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کیخلاف انضباطی اور تعزیری ایکشن لیا گیا ہے ۔ ڈی پی اور ایس پی انویسٹی گیشن کو بھی معطل کیا گیا ہو اور انتظامیہ کے سربراہ ( ڈی سی او ) کا مراسلہ بھی سامنے آیا ہے جس میں ذمہ داران کیخلاف ایکشن لینے کی سفارش کی گئی ہے قومی پریس میں ” دو ڈاکوﺅں “ کی سولہ اگست کو پولیس اور عوامی مقابلے کی شہ سرخیوں سے شائع ہونے والی خبر پر جب ”پاکستان “ نے سترہ اگست کو تحقیقاتی اور واقعاتی رپورٹ شائع اور ” ویلیو ٹی وی “ نے نشر کی تو اس سے عوام کی آنکھ تو کھل گئی مگر اس ”دہشت گردی “میں ملوث افسران اور دوسرے ذمہ داران نے بھی صوبائی انتظامیہ کی طرح یہ سوچ کر چپ سادھ لی کہ کل نیا اخبار شائع ہونے کے بعد گذرا کل ماضی بن جائے گا اور یہ” دہشت گردی “ بھی روائتی پولیس مقابلوں کی طرح دب جائے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور خون ناحق اس ویڈیو سے چیخ چیخ کر پوری قوم سے انصاف مانگنے لگا جو ویڈیو ” پاکستان “ میں خبر کی اشاعت اور ”ویلیو ٹی وی “ پر نشر ہونے کے بعد ایک شہری کی جانب سے جاری کی گئی اور انتظامیہ کی آنکھ چیف جسٹس افتخار چودھری اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کے ازخود نوٹس نے کھول دی ۔ باقی بیداری ہر حکمران کے زیر عتاب رہنے والے الیکٹرانک میڈیا کی نشریات سے ہوئی حالانکہ یہ ویڈیو الیکٹرانک میڈیا نے اپنے ہی بنائے ہوئے اس ضابطہ اخلاق کو عوامی مفاد اور انصاف دلانے کیلئے نشر کی جس میں طے کیا گیا تھا کہ اس نوعیت کی ویڈیوز نشر نہیں کی جائیں گی ۔ اس واقعے کی انکوائری کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے بنائے جانے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) کاظم ملک نے تصدیق کی ہے کہ سیالکوٹ کے عوام اس ظلم کی تحقیقات پر مطمئن نظر نہیں آتے تاہم وہ سو فیصد انصاف کرینگے ،یہ بیان بھی اسوقت سامنے آیا ہے جب ایک مفرور ملزم نے سیالکوٹ پولیس کی جعلی مقابلہ کی ساری سازش فاش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسر نے کہا تھا،” ان لڑکوں کو مار دو ہم پولیس مقابلہ ظاہر کر دیں گے “اسی بیان کے بعد تھانے سے دو ملزم اہلکار فرار ہوئے اور پولیس نے ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ تو درج کرلیا تاہم تا دم تحریر اسے گرفتار نہیں کیا گیا ۔دوسری جانب وزیر داخلہ کی جانب سے بھی مقتولین کے والدین کوپہلے ٹیلی فون پر انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی گئی اور پھر گھر جا کر تعزیت کا اظہار کیا گیا ۔وزیراعلی پنجا ب میاں شہباز شریف نے بھی سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار انکے گھر جاکر کیا اس سے پہلے ان کی ہدایت پر آئی جی پولیس ڈی پی اوایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی ایس پی سٹی سیالکوٹ کو عہدوں سے ہٹا دیا ۔البتہ وزیراعلی کے اس حکم پر پوری طرح عملدرآمد نہ ہوسکا جو اس واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں اور دوسرے ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کرنے سے متعلق تھا ۔وزیر اعلی ٰسے پہلے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی ”سیالکوٹ یاترا“ کی اور غمگساری کا ”فرض ‘ ادا کیااور اپنے ماتحت محکمے کی کارگذاری کا ذکر بھی کیا اور آئندہ بھی انصاف کیلئے ’ اسی ’ عطار کے لونڈے “ کی دوکان بھی اس وعدے اور دعوے کی ساتھ دکھائی کہ اب کے بار وہ ”شفا بخش دوائی “ دے گا ،گورنر پنجاب کی جانب سے بھی یہی ” دو الفاظ نماز “ سیاسی اور سماجی فرض کے طور پر ادا کی گئی ،حالانکہ سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک ایک دن پہلے ہی اپنی کارروائی شروع کرنے سے قبل ن صورتحال کا ابتدائی جائزہ لے چکے تھے اور عوام کی طرف سے قانون ہاتھ میں لینے اور پولیس کے خاموش تماشائی بنے رہنے کی شدید مذمت کرچکے تھے اور ااس امر کا اعتراف بھی کرچکے تھے کہ اب لوگوں کا تحقیقات اور انصاف پر یقین نہیں رہا لیکن ایک عدال] ]>

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive