آئی ایس آئی کا ‘‘جمہوریت کُش’’ آپریشن

یہ کالم لکھنے سے پہلے میں یہ وضاحت ناگزیر سمجھتا ہوں کہ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن 1985 میں روزنامہ دی نیوز کراچی کے ایڈیٹر تھے جہاں سے میں نے صحافت کے شعبے میں قدم رکھا۔ وہ میرے اُستاد تھے اور میں اُن کی شفقت و مہربانی کا آج بھی مشکور ہوں، تاہم میں نے اُن کی سیاسی حیثیت یا سرکاری ذمہ داریوں سے کبھی بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

پاکستان کے حقیقی حکمرانوں یعنی شانوں پر ستارے اور سینوں پر سلور بیج سجائے خاکی وردی والوں نے ایک بار پھر قوم کی زبان بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چونکہ اس بار انہیں براہ راست اُن کے امریکی آقاؤں سے یہ حکم ملا ہے، اس لئے وہ یہ اچانک تبدیلی نہایت چالاکی سے پیدا کر رہے ہیں۔

اس بار انہوں نے ملک کے منتخب صدر آصف علی زرداری کو رات کے اندھیرے میں عہدے سے ہٹانے کے بجائے دن کے اجالے میں ہی پر کاٹ کر اڑنے سے محروم کر دیا ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری کے پاس اب کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ ایوان صدر محض علامت اور ان کے اختیارات برائے نام رہ گئے ہیں۔

کیری لوگر بل کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی مذاق بن گئے تھے اور اُن کا اثر و رسوخ بھی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔

میں یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہوں کہ پاکستان میں حکومت کرنے والی حقیقی طاقت کس طرح حسین حقانی جیسے دانشور کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہے۔ حقانی صاحب نے ‘‘ملٹری سے مسجد تک’’ کتاب تحریر کی ہے جو پاکستان کی حالیہ تاریخ کے بارے میں مستند حیثیت کی حامل ہے۔ اس کتاب میں انہوں فوج مافیا کے ہاتھوں ملاؤں اور مسجد کے استعمال کو بے نقاب کیا ہے۔ حسین حقانی کو تو لازمی پاکستان کی جمہوری حکومت کی نمائندگی کرنا تھی، لیکن انہیں کام تو آخر اُسی آرمی کے ساتھ کرنا تھا جس کے بارے میں انہوں نے کتاب لکھی ہے۔ یہاں میرا یہ خدشہ درست ثابت ہوا ہے کہ آپ تاریکی اور اجالے، حق و باطل اور ظالم و مظلوم کے ساتھ بیک وقت مفاہمت نہیں کر سکتے۔

آئی ایس آئی نے دوسرا حملہ لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن پر کیا ہے۔

ٹیلی ویژن کے بہت سے صحافی اس بات سے اچھی طرح اگاہ تھے کہ جنیوا میں کوئی بڑا کام ہونے والا ہے۔ یورپ اور امریکا میں پاکستانی سفارت خانوں میں آرمی کے لوگوں کی جانب سے بتایا گیا کہ انہیں تمام اخراجات کے ساتھ جنیوا لے جایا جائے گا جہاں ایسی خبر جنم لینے والی ہے جو اُن کے کیریئر میں سنگ میل ثابت ہو گی۔

لندن، جنیوا، واشنگٹن ڈی سی اور برلن میں موجود آرمی اور آئی ایس آئی کے نمائندوں نے ٹیلی ویژن کے مشہور صحافیوں کو اس خبر کی تفصیلات بتائے بغیر دام میں لانے کی بہت کوشش کی، لیکن کوئی صحافی راضی نہ ہوا۔ اس ناکامی پر اٹلی کے شہر carpi میں روزنامہ جنگ کے غیر معروف نمائندے سے رابطہ کر کے تمام اخراجات کے ساتھ جنیوا لے جایا گیا۔ اس نمائندے نے کبھی کسی ٹی وی چینل کے لئے رپورٹ تیار نہیں کی اور اسی وجہ سے اُس کی بھیجی گئی ریکارڈنگ سے کراچی میں جیو کی ٹیم نے پورا سیگمنٹ تیار کر کے اُن ایئر کیا۔

یورپ میں فوج کی معاونت کرنے والا شخص نصیر ملک جنیوا میں آئی ایس آئی کے درمیانے درجے کے نمائندے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) کا عہدیدار اور مشروب اسٹور کا مالک بھی ہے۔ وہ ٹی وی چینلز کے نمائندوں کو بار بار فون کر کے کیمرہ پرسن کے ساتھ آنے اور یہ خبر کور کرنے کیلئے قائل کرتا رہا۔ واجد شمس الحسن کی آمد کے وقت، اُن کے زیر استعمال کار اور اس کی لائسنس پلیٹ سمیت تمام اور بہت سی معلومات نصیر ملک کے پاس پہلے سے موجود تھیں۔

کچھ چینلز نے اس کو کور کیا اور یکم دسمبر 2009 کو یہ رپورٹ ہوا کہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کی سربراہی میں جنیوا میں انتہائی خفیہ آپریشن ہوا ہے ۔

صدارتی ترجمان فرحت اﷲ بابر نے جنیوا میں وکیل کے دفتر سے کسی ریکارڈ کی منتقلی کے معاملے سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ اخبار کے نمائندے جاوید کنول، جنہوں نے جامعہ لاہور سے فوٹو گرافی میں پی ایچ ڈی کرنے کا دعویٰ کر رکھا ہے (میں نے دوبار چیک کیا ہے، لیکن پاکستان میں کوئی جامعہ فوٹو گرافی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں کراتی) مشہور اور دولت مند ہو گئے ہیں۔ انہیں آئی ایس آئی کے جوائنٹ کاؤنٹر انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے رقم دی گئی۔ جاسوسوں کا یہ گروہ بیرون ملک پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت کی نگرانی پر مامور ہے۔

واشنگٹن ڈی سی اور لندن میں ڈپلومیٹک مشن بہترین کور فراہم کرتے ہیں اور آئی ایس آئی کے مراکز سفارتخانوں کے احاطے میں ہی واقع ہیں۔ ان میں سے کم از کم دو کو تو میں جانتا ہوں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں، لیکن سفارتخانوں کی حدود سے باہر بھی آئی ایس آئی کے لوگوں کو پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والی کوئی نہ کوئی کاروباری شخصیت مل ہی جاتی ہے جس کی ایک زندہ مثال  نصیر ملک ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ مشکوک کردار صرف اس لیے خود کو صحافی ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں آزادانہ گھومنے کی اجازت مل سکے۔ جنیوا میں کسی پریس کانفرنس کے دوران اُن کا پہلی قطار میں موجود ہونا حیرانی کی بات نہیں اور پاکستان آرمی کے کردار یا پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے سوال و جواب کے سیشن کا ماحول خراب کرنے کا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کیلئے پاکستان کا مشن ضمیر اکرام کی قیادت میں کام کر رہا ہے اور اس مشن نے واجد شمس الحسن کے گرد گھیرا بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ضمیر اکرام اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مندوب مشہور منیر اکرام کے بھائی ہیں جنہیں نیو یارک کے  اپنے اپارٹمنٹ میں خاتون پر حملے کے الزام  کا بھی سامنا ہے۔

انٹیلی جنس بیورو (پاکستان کی سول انٹیلی جنس سروس) کے ذرائع نے تسلیم کیا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کے اس ‘‘جمہوریت کُش’’ آپریشن سے بالکل بے خبر تھے، لیکن اب اُن کے پاس اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ کس طرح پاکستان کے منتخب صدر اور بیرون ملک سفارتکار کو پریشان کرنے کے لئے میڈیا کو استعمال کیا گیا۔

سابق صدر پرویز مشرف امریکا میں اپنی تمام تقریروں کے دوران آرمی اور آئی ایس آئی کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ یہ ادارے بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کے ادارے کرتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر پاکستانی ادارے اپنا یہ فرض جمہوری طور پر منتخب حکومت کے زیر انتظام رہتے ہوئے کیوں نہیں ادا کرتے۔ دراصل سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں اداروں کو جمہوری انداز میں کام نہیں کرنے دیا گیا اور نہ ہی جمہوری اقدار کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔ دنیا پاکستان کو ناکام ملک سمجھنے لگی تھی اور پرویز مشرف کے پاس اس الزام کا کوئی جواب موجود نہیں ہے۔

اگر پاکستان دنیا میں اپنی حیثیت منوانا چاہتا ہے اور طاقت کے اس میدان میں اپنی سالمیت و ساکھ کے دفاع کا خواہش مند ہے تو ایسا صرف جمہوری اداروں اور اُن کے استحکام سے ہی ممکن ہے۔ جمہوری اداروں کو اہمیت نہ دینے والے ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ پاکستان میں طویل آمریت کے بعد آنے والی جمہوریت ابھی کمزور ہے اور آرمی اس کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ امید ہے کہ پاکستانی عوام اپنے حقوق کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بوٹوں والوں نے حقوق پر قبضے کی کوشش کی تو قوم اپنی طاقت سے انہیں بیرکوں میں واپس جانے پر مجبور کر دے گی

اب دنیا بدل چکی ہے اور ہم گورننس کے نئے عہد میں داخل ہو رہے ہیں۔ اگر ہم نے ملک میں جمہوریت کو مستحکم نہیں کیا تو عالمی برادری میں اہم مقام اور حیثیت حاصل نہیں کر سکیں گے اور پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

About the author

admin

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive