جادو سے پناہ کے لیے ٭ رات باوضو سوئیں۔

٭ چاروں قل شریف پڑھ کر اپنے پورے جسم کو دم کرلیں کہ یہ سنت رسول اللہ ا ہے۔

٭ آیت الکرسی پڑھ کر اپنے جسم کو دم کرلیں اور چارپائی اور گھر کاحصار بنالیں۔
٭ یہ تمام پڑھ کر بچوں کے جسم پر بھی دم کردیں۔
٭ اگرکوئی تعویذ یاکوئی مشکوک چیز ملے تو اسے بہتے پانی کی نہر میں،دریا میں یاصاف پانی کی نالی میں گرادیں۔ مٹی یا اینٹ کی کنکریاں بہت نقصان دہ ہوتی ہیں ان کو بھی چن کر پانی میں پھینک دیں۔
٭ کوئی جادو سے متعلق خواب نظر آئے تو اسے راز میں رکھیں اور کسی اہل علم و تقویٰ سے مشورہ کریں۔
٭ سورۃ البقرہ مکمل ۱۴دفعہ پڑھ کر خود کو، گھر کے افراد اور سارے گھر کودم کرلیں اور اگر مناسب ہو تو گھر، دوکان اور صحن کو اچھی طرح دھوئیں۔ موٹرسائیکل اور کار وغیرہ کو بھی دھولینا مفید ہے۔
٭ اگر کسی کپڑے پرخون کے چھینٹے پڑے نظرآئیں تو چاروں قل شریف پڑھ کر تازہ پانی سے کپڑا دھولیں۔
٭ جادو کے دفاع کے لیے کسی جاہل شخص یا معلوم جادوگر کے پاس نہ جائیں کہ یہ لوگ مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے اُلٹ پلٹ بھی کر دیتے ہیں۔ کسی قابل اعتماد آدمی سے مشورہ کرنا چاہیے۔
٭ قبرستان میں جاکر زیارت قبور کے جہاں اوربہت سے فوائد ہیں وہاں جادو سے بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
٭ خیرات اور صدقہ کرنے سے بھی جادوسے فائدہ ہوجاتا ہے۔
٭ اہل ذکر پر جادو کم اثر کرتاہے۔ اگرکوئی تکلیف آبھی جائے تو اس کاعلاج جلدی ہوجاتا ہے۔ جس طرح انسان بیمار ہوسکتا ہے اسی طرح نیک لوگوں پرجادو کااثر بھی ہوسکتا ہے۔ ذکر سے غفلت شیطان کو حملہ کرنے کاموقع دے دیتی ہے۔
٭

اللہ یقینااسے مٹادے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کوسنوارتا نہیں ۔
٭


پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے ، ابھی ان کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے ۔ یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا خواہ کسی شان سے آئے
٭ مذکورہ بالاآیت مبارکہ ہرروز نمازعشاکے بعد۱۲دفعہ خودپڑھیںاور اپنے آپ کو دم کریں اور اگر کوئی سحر زدہ شخص مل جائے تو اسے بھی ۱۲دفعہ پڑھ کر دم کردیں۔ البتہ جتنی کثرت سے آپ خود پڑھیں گے اسی نسبت سے اس کے دم میں تاثیر ہوگی۔ ۱۲دفعہ ایک کم ازکم حد ہے کثرت کی کوئی حد نہیں۔

About the author

admin

2 Comments

Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive