جمبر کی ڈائری ایک نظرادھربھی۔ ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔ عقیل خان کی زبانی

جمبرضلع قصور کا سب سے بڑا قصبہ ہے۔ملتان روڑپر ہونے کی وجہ سے اس کو پورے ضلع میں اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ واحد علاقہ ہے جس سے 24گھنٹے میں کسی بھی وقتپاکستان کے شہر کے لیے جا سکتے ہو۔ پھولنگر اور پتوکی بھی اس روڑ پر واقع ہیں مگر ان پر بائی پاس بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سی ٹریفک کا ادھر سے گز ر نہیں ہوتا جبکہ جمبر سے لازمی نکلنا ہوتاہے۔ اس کے علاوہ جمبر سے پاکستان کے سب سے بڑے ذخیرے یعنی چھانگا مانگا نیشنل پارک کے لیے بھی ادھر سے راستہ نکلتا ہے۔ اتنا اہم قصبہ ہونے کے باوجود حکومت پاکستان ، صوبائی حکومت ،ضلعی حکومت ، حلقے کے ایم این اے اور ایم پی ایز نے اس علاقے کی ترقی کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ جس کامنہ بولتا ثبوت یہ ہیں۔
نمبر1: جمبر میں آج تک لڑکیوں کے لیے کوئی ہائی سکول نہیں بنایا گیاجبکہ بگھیانہ جیسے گائوں لڑکیوں کے لیے ہائیر سیکنڈری سکول ہے ۔ صرف ایک مڈل سکول ہے ۔مڈل سکول کے لیے بھی عمارت ناکافی ہے۔ جس کے پرائمری حصے کو جمبر کی عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت جنج گھر دیا ہوا ہے۔ جہاں پر ایک ماہ پہلے ہونے والی بارش نے اس جنج گھر کی چھت کو بیٹھا دیا ۔ جس کی وجہ سے وہ بھی بند پڑا ہے۔ بچیاں اپنے گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔
نمبر2: جمبر میں سوئی گیس نہیں ہے جبکہ اس گائوں سے چھوٹے کئی گائوں میں آج سے کئی سال پہلے سوئی گیس آچکی ہے۔ جبکہ ہر دور میں ا س علاقے کو سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں۔
نمبر3: یہا ں پر ڈاکخانہ نہیں تھامگر اس کے لیے بھی اپنی مدد آپ کے تحت جمبرکی عوام نے ایک کنویں کی جگہ پر ایک کمرہ بنا کر ڈاکخانہ بنا دیا ۔
نمبر4: یہاں پر ایک عددبنیادی مرکز ہسپتال ہے جس میں مہینے میں چار دن کوئی ڈاکٹر آجاتا ہے اس کے بعد وہ بھی اپنا تبادلہ کرا کے بھاگ جاتا ہے کیونکہ اس میں کوئی سہولت ہی نہیں ہے ۔ اور اگر کوئی ڈاکٹر آبھی جائے تو اس میں آج تک دوائی میسر نہیں ہوتی ۔ اس لیے یہ ایک قسم کا کاغذی ہسپتال ہے اور اگر کوئی ڈاکٹر ہو گا بھی تو وہ گھر بیٹھے تنخواہ وصول کر رہا ہوگا۔
نمبر5: کہنے کو تو یہ ایک انڈسٹریل ایریا ہے مگر یہاں یہ حال ہے کہ جمبر کے عوام کو ملازمت ہی نہیں دی جاتی بلکہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ لوکل بھرتی پر پابندی ہے جبکہ جس علاقہ میں کوئی فیکٹری لگائی جاتی ہے تویہ بڑے بڑے نام نہاد لیڈر ہی تقر یر کرتے ہیں کہ آپ کے علاقے میں خوشحالی آئے گی ۔ آپکو ملازمتیں دی جائیں گی ۔ مگر ادھر تو صاف جواب دیا جاتاہے اور باہر کے لوگوں کی بھرتی کی جاتی ہے اور پھر جب وہ اس علاقے میںکسی واردات میں شامل ہوتے ہیںتو وہ واردات کرکے بھاگ جاتے ہیں اور سکون جمبر کی عوام خراب ہوتا ہے۔
نمبر6: اس علاقے کے سیاستدانو ں میںن لیگ کے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبا ل خان، رانا حیات خان، ق لیگ کے سردار طالب حسن نکئی، سردار آصف نکئی،سردار پرویز حسن نکئی﴿مرحوم﴾ ، پی پی کی ناصرہ ارشداور جماعت اسلامی کے حاجی محمد رمضان جیسے نامور لوگ الیکشن لڑتے ہیں اور ان سے پہلے رانا پھول محمد خاں اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عارف نکئی بھی اس علاقے سے الیکشن لڑتے رہے ہیں۔اور ان میں سے چند جیتتے ہیں مگر ان لوگوں نے کاغذوں میں تو سب کام مکمل کرا رکھے ہوںگے مگر حقیقت میں جمبر کی گلیوں کا یہ حال ہے کہ گاڑی میں چلنا تو ایک طرف پیدل کے لیے بھی راستہ نہیں ہوتا۔ بارش ہوجائے تو دو دو دن گھر سے باہر نکل نہیں سکتے ۔
اتنے اہم علاقے کو اس قدر نظر انداز کرنا کہاں کا انصاف ہے۔کیا اس علاقے کے بچے اور بچیوں کا حق نہیں کہ وہ بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھے منصب پر فائز ہوں ؟ کیا اس علاقے کی بہو بیٹیوں کو حق نہیںکہ وہ سوئی گیس پر روٹی سالن بنا سکیں؟ کیا جمبر کے لوگ بیمارنہیں ہوتے کہ وہ بھی ہسپتال سے دوائی لا سکیں؟ کیا جمبر کے لوگوں کا حق نہیںکہ وہ بھی اس علاقے کی فیکٹریوں میں کام کر سکیں؟ کیا ادھر کی عوام کا حق نہیں کہ وہ بھی اچھی سڑکوں پر چل سکیں ، صاف پانی پی سکیں، گندہ پانی سڑکوں پرنہ کھڑا ہو سکے؟ ان سب سوالوں کا جواب دینے کا ذمہ دار کون ہے؟ جمبر کی عوام یا ہمارے علاقے کے کرتا دھرتا۔ ووٹ کے ٹائم تو ہر کوئی سہانا سپنا دکھاتا ہے اور جیتنے کے بعد کوئی اس طرف شکل بھی نہیں کرتا۔
میرا حکومت پاکستان ، صوبائی حکومت پنجاب اور ڈی سی او قصور سے درخواست ہے کہ خدا را ہمیں بھی جینے کے ساری نہیں تو کچھ سہولتیں دے دیں کہ ہماری آنے والی نسلوں میں سے کوئی ڈاکٹر بن سکے ،کوئی انجئنیر بن سکے۔

About the author

admin

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive