جگر ہے تو اقبال کے دیس کا حال بھی سن

9339_Target killing in sialkoat 1سنگساری کا عمل دیکھ کر عبرت ہوتی ہے تو ایسے عمل کو کس طرح دیکھا جاسکتا ہے کہ دو نوجوانوں کوزمیں پر لٹا کر ڈنڈوں اور آہنی راڈوں سے مار مار کر مار دیا جائے ,انکی چیخوں سے آسماں گرے نہ زمیں پھٹے ،لوگوں کی بڑی تعداد یہ ”تماشا “ دیکھتی رہی جبکہ یہ دلخراش منظر پولیس اور ہنگامی امدادی ادارے ریسکیو 1122کے عملے کی نگرانی میں ہو رہا ہو، کوئی ان کی چیخ سن کر مدد کو نہ پہنچے اور وہ سب کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دیدیں پھر انہیں الٹا لٹکا دیا جائے ۔ یہ نہ تو کوئی فلمی کہانی اور نہ ہی کسی جنگل میں پیش آنے والا واقعہ بلکہ شاعر مشرق کے شہر سیالکوٹ کے شہریوں کا آنکھوں دیکھا وہ منظر ہے جس میں مارنے والے شامل تھے ، کچھ تحفظ دینے والے اور کچھ تماشا ئی تھے ،بچانے والا کوئی نہیں تھا اور پھر یہ سماجی اور ریاستی ہشت گردی ذرائع ابلاغ میں بھی پولیس کی روایتی کہانی بن کر شائع ہوگئی لیکن اب سیالکوٹ پولیس اور سماجی دہشت گردی پوری طرح کھل کر سامنے آگئی ہے تاہم ” انصاف “ کے ضمن میں ابھی بھی مظلوم خاندان اور اس ”دہشت گردی “ سے رنجیدہ حلقے مضطرب اور تشویش میں مبتلا ہیں کہ انصاف کس طرح اور کس کو ملے گا جبکہ سیالکوٹ میں جانوں کے ضیاع کا کبھی مول نہیں پڑا خواہ وہ ججوں کا قتل ہی کیوں نہ ہو اور پھر قانون کے نازک شکنجوں سے دو ”محافظ “ فرار بھی ہو گئے ہیں اور وہ ایسے وقت میں فرار ہوئے یا کرائے گئے ہیں جب عدالت عظمیٰ اور عدلت عالیہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیکر کارروائی کررہی ہیں اور عدالتی کارروائی ہی کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کیخلاف انضباطی اور تعزیری ایکشن لیا گیا ہے ۔ ڈی پی اور ایس پی انویسٹی گیشن کو بھی معطل کیا گیا ہو اور انتظامیہ کے سربراہ ( ڈی سی او ) کا مراسلہ بھی سامنے آیا ہے جس میں ذمہ داران کیخلاف ایکشن لینے کی سفارش کی گئی ہے قومی پریس میں ” دو ڈاکوﺅں “ کی سولہ اگست کو پولیس اور عوامی مقابلے کی شہ سرخیوں سے شائع ہونے والی خبر پر جب ”پاکستان “ نے سترہ اگست کو تحقیقاتی اور واقعاتی رپورٹ شائع اور ” ویلیو ٹی وی “ نے نشر کی تو اس سے عوام کی آنکھ تو کھل گئی مگر اس ”دہشت گردی “میں ملوث افسران اور دوسرے ذمہ داران نے بھی صوبائی انتظامیہ کی طرح یہ سوچ کر چپ سادھ لی کہ کل نیا اخبار شائع ہونے کے بعد گذرا کل ماضی بن جائے گا اور یہ” دہشت گردی “ بھی روائتی پولیس مقابلوں کی طرح دب جائے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور خون ناحق اس ویڈیو سے چیخ چیخ کر پوری قوم سے انصاف مانگنے لگا جو ویڈیو ” پاکستان “ میں خبر کی اشاعت اور ”ویلیو ٹی وی “ پر نشر ہونے کے بعد ایک شہری کی جانب سے جاری کی گئی اور انتظامیہ کی آنکھ چیف جسٹس افتخار چودھری اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کے ازخود نوٹس نے کھول دی ۔ باقی بیداری ہر حکمران کے زیر عتاب رہنے والے الیکٹرانک میڈیا کی نشریات سے ہوئی حالانکہ یہ ویڈیو الیکٹرانک میڈیا نے اپنے ہی بنائے ہوئے اس ضابطہ اخلاق کو عوامی مفاد اور انصاف دلانے کیلئے نشر کی جس میں طے کیا گیا تھا کہ اس نوعیت کی ویڈیوز نشر نہیں کی جائیں گی ۔ اس واقعے کی انکوائری کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے بنائے جانے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) کاظم ملک نے تصدیق کی ہے کہ سیالکوٹ کے عوام اس ظلم کی تحقیقات پر مطمئن نظر نہیں آتے تاہم وہ سو فیصد انصاف کرینگے ،یہ بیان بھی اسوقت سامنے آیا ہے جب ایک مفرور ملزم نے سیالکوٹ پولیس کی جعلی مقابلہ کی ساری سازش فاش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسر نے کہا تھا،” ان لڑکوں کو مار دو ہم پولیس مقابلہ ظاہر کر دیں گے “اسی بیان کے بعد تھانے سے دو ملزم اہلکار فرار ہوئے اور پولیس نے ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ تو درج کرلیا تاہم تا دم تحریر اسے گرفتار نہیں کیا گیا ۔دوسری جانب وزیر داخلہ کی جانب سے بھی مقتولین کے والدین کوپہلے ٹیلی فون پر انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی گئی اور پھر گھر جا کر تعزیت کا اظہار کیا گیا ۔وزیراعلی پنجا ب میاں شہباز شریف نے بھی سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار انکے گھر جاکر کیا اس سے پہلے ان کی ہدایت پر آئی جی پولیس ڈی پی اوایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی ایس پی سٹی سیالکوٹ کو عہدوں سے ہٹا دیا ۔البتہ وزیراعلی کے اس حکم پر پوری طرح عملدرآمد نہ ہوسکا جو اس واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں اور دوسرے ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کرنے سے متعلق تھا ۔وزیر اعلی ٰسے پہلے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی ”سیالکوٹ یاترا“ کی اور غمگساری کا ”فرض ‘ ادا کیااور اپنے ماتحت محکمے کی کارگذاری کا ذکر بھی کیا اور آئندہ بھی انصاف کیلئے ’ اسی ’ عطار کے لونڈے “ کی دوکان بھی اس وعدے اور دعوے کی ساتھ دکھائی کہ اب کے بار وہ ”شفا بخش دوائی “ دے گا ،گورنر پنجاب کی جانب سے بھی یہی ” دو الفاظ نماز “ سیاسی اور سماجی فرض کے طور پر ادا کی گئی ،حالانکہ سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک ایک دن پہلے ہی اپنی کارروائی شروع کرنے سے قبل ن صورتحال کا ابتدائی جائزہ لے چکے تھے اور عوام کی طرف سے قانون ہاتھ میں لینے اور پولیس کے خاموش تماشائی بنے رہنے کی شدید مذمت کرچکے تھے اور ااس امر کا اعتراف بھی کرچکے تھے کہ اب لوگوں کا تحقیقات اور انصاف پر یقین نہیں رہا لیکن ایک عدال] ]>

About the author

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive