دوملاؤں میں مرغی حرام

تحریر: عقیل خان

پاکستان کے پانچ صوبے ہیںاور ان صوبوں میں ایک صوبہ پنجاب ہے ۔ آبادی کے لحاظ سے پنجاب کا پہلا نمبر ہے ۔اس کی حدوداٹک سے شروع ہوکر صادق آباد پہنچ کر ختم ہوتی ہے۔ اس کے 34اضلاع ہیں مگر اس کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ اس وقت مسائل میں گھراہوا ہے؟مسائل بھی ایک دو نہیں جو پنجاب کی عوام برداشت کرلے۔ اس وقت پنجاب کی عوام مسلسل مسائل کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔مگر ان کو حل کرنے والا کوئی نہیں۔پاکستان کی سیاست کاانداز بھی نرالا ہے ۔ہم سب کہنے کو تو پاکستانی ہیں مگر جب کسی صوبے کو کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ اس کو صوبائیت کا رنگ دے کر سیاست کی نظر کر دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح کا کچھ انداز آجکل صوبہ پنجاب اور اس کی عوام کے ساتھ دیکھا جارہا ہے ۔
ویسے تو لوڈشیڈنگ پورے ملک میں ہورہی ہے مگرپنجاب میں اس وقت پورے ملک سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ تین دن پنجاب میں ہورہی ہے باقی کسی صوبے میں تین دن کا ٹائم ٹیبل نہیںہے۔ اس میں پنجاب کی عوام کا کیا قصور ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا سب سے زیادہ بجلی اور گیس پنجاب ہی استعمال کرتا ہے؟ پنجاب کی عوام کی حالت یہ ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہو چکے ہیںکیونکہ ہر کاروبار میں تو بجلی کا استعمال ہوتا ہے مگر یہاں تو جب 24گھنٹے میں سے چھ گھنٹے بجلی آئی گی تو اس میں کیا کام ہوگا؟ جو کام ایک دن میں ہونا چاہیے اس کے لیے کم ازکم تین دن درکارہوتے ہیں۔ بجلی کی وجہ سے پورے پنجاب میںہر روز ہڑتال ہوتی ہے اور جس کی وجہ سے جو کوئی تھوڑابہت کاروبار کرتے ہیں وہ ہڑتال کی وجہ سے بند ہوجاتا ہے۔اب گیس کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا برا حال کیا ہوا ہے۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ موسم سرما میں دو تین ماہ کے لیے پنجاب کی فیکٹریوں کی گیس بند کی جائے گی ۔ جس کی وجہ سے بے روزگاری کا ایک بہت بڑا بحران پھر سے آنے والاہے۔اب اس کا ازالہ کون کرے گا؟ ملک میں بے روزگاری تو پہلے ہی بہت ہے مگر جس وقت پنجاب کی گیس بند کردی جائے گی تو پھر جو لوگ فیکٹریوں میں ملازم ہیں وہ بھی بے روزگار ہوجائیں گے تو اس مسئلہ کا تدارک کیسے کیا جائیگا۔ اس کے علاوہ اس وقت پنجاب خاص طورپرلاہورمیں ڈینگی مچھر نے جو ہلاکتوں کا سلسلہ شروع کیا وہ اللہ اللہ کرکے اب کچھ کم ہوگیا ہے۔ مگر افسوس کی بات تو یہ ہے پنجاب میں روزانہ پانچ چھ ہلاکتیں ہورہی تھیں اور ادھر سیاستدان اس پر سیاست کررہے تھے۔کوئی کسی کو الزام دے رہاہے تو کوئی کسی کو۔یہ تو وہی مثال ہوگئی کہ ’’دوملائوں میں مرغی حرام‘‘ اس میں پنجاب کی عوام کیا قصور ہے کہ مرکز میں پی پی کی حکومت اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی ۔
مجھے بڑے افسو س سے لکھنا پڑرہا ہے کہ جس وقت پورے پنجاب میں ڈینگی سے لوگوں کی موت واقع ہورہی تھی اس وقت پی پی کے راہنما مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ کویہ الزام دے رہے تھے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ ڈینگی پر قابو نہیں پاسکے۔ کوئی کہہ رہاتھا کہ ن لیگ کی نااہل حکومت کی وجہ سے ڈینگی پھیل رہا ہے ۔ یہ الزام لگانے والے یہ کیوں بھول گئے کہ یہ کیسی حکومت کا کیا دھرا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے جوانسان کے لیے آتی ہے۔’’موت برحق ہے کفن پر شک ہے‘‘۔ یہ الزام لگانے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر پنجاب کی عوام جو مررہی ہے وہ نواز شریف یا شہبا ز شریف کی وجہ سے مررہی ہے تو پھر یہ ڈرون حملے کس کی وجہ سے ہورہے ہیں؟ صوبہ خیبرپی کے کی عوام کیوں مررہی ہے؟ صوبہ سندھ میں جو پچھلے دنوں ٹارگٹ کلنگ ہوئی اس کا ذمہ دارکون؟ ان صوبوں میں تو نواز شریف کی حکومت نہیں وہاں تو پیپلز پارٹی کی حمایت یافتہ حکومتیں ہیں پھر وہاں کے حالات کا ذمہ دار کون ؟
ان پاکستان کے مخلص اور خیر خواہ لیڈروں سے یہ پوچھا جائے کہ پنجاب کے کسی بھی شہر میںجب بھی موت واقع ہوئی ہے وہاں جاکر انہوں نے کبھی ان کے گھر والوں سے تعزیت کی ۔ کیونکہ موت ان کے گھر میں ہوئی ہے ان لیڈروں کے نہیں ۔ ہاں اتنا ضرور فائدہ ہوا کہ انہوں میڈیا
پرآکر بیان دینے کا بہانہ ضرور مل گیا۔
خدارا اے پاکستان کے حکمرانوں ! ہمیں اتنا بتا دو کہ سیاست کی جنگ تمھاری چل رہی ہے۔ ملک کو لوٹنے کے طعنے ایک دوسرے کو تم دے رہے ہو۔ ساری دولت تم لوگوں نے لوٹ کر ملک سے باہر رکھی ہوئی جس کا شاید عوام کو پتا بھی نہ ہو مگر تمھاری ہی زبانوںنے خود اگل دیا کہ فلاں کی دولت فلاں ملک میں ہے۔ ارے اللہ کے بندو! ہم غریب عوام کا کیا جرم ہے جو ہمیں بجلی اور گیس سے محروم رکھا جارہاہے۔ قسم کھا کر بتائو ان ہڑتالوں کے دنوں میں یا لوڈشیڈنگ کے دوران کبھی کسی سیاستدان کے ہاں بھی ایسا ہوا ہے کہ ان کے گھر بجلی سے محروم ہوں ۔گیس کی وجہ سے وہ سفر کرنے سے قاصر ہوں اور کھانا پکانے میں دقت آئی ہو۔
اے پاکستان حکمرانوں پنجاب کو اپنی لڑائی اتنی بڑی سزا نہ دو کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس دلدل میں پھنسی رہے۔ اگر آپ لوگوں کا رویہ ایسا ہی رہا اور عوام اس طرح ہی چکی میں پستی رہی تو ایک دن آئیگا جب پنجاب کی عوام ان تمام سیاستدانوں کو ووٹ کی بجائے گالیاں دے رہی ہوگی۔ اور سیاست کے نام کو کفر سمجھے گی۔

About the author

admin

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive