واہگہ بارڈر کی سیراور حکومت کی بے حسی

کل اتفاق سے ایک نجی سکول جمبرکے ساتھ لاہور ٹریپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔بچوں کو جوائے لینڈ پارک لے جایا گیا اور وہاں گھومنے کے بعد واہگہ بارڈر گئے۔ جب ہم وہاں پہنچے اوروہاں کیحالت دیکھی تو خدا کی قسم بہت دکھ ہوا کہ وہاں کوئی گھومنے کی چیز تو نہیں تھی سوائے کہ رینجر ز کے جوانوں کی نوک جھوک کے۔ لیکن سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہوا کہ جہاں پر عوام صرف اپنے فوجی بھائیوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے جاتی ہے اور اپنے جانی دشمن یعنی بھارت کو یہ دکھانے جاتے ہیں کہ ہم اپنی فوج کے ساتھ کتنا پیار کرتے ہیں اب اس جگہ کو بھی کاروبار بنا دیا گیا اور وہاں پر بھی انٹری ٹکٹ رکھ دیا گیا ہے۔ اور جب ہم سب سکول کے بچوں کے ساتھ انٹری ٹکٹ تقریباً ایک ہزار روپے دیکر اندر داخل ہوئے تو دیکھاکہ پاکستان کی سائیڈ میں صرف دو تین سوکے قریب عوام تھی اور باقی تمام جگہ خالی پڑی تھی جبکہ دوسری جانب کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔﴿ ’’اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ ادھر کا ٹکٹ ہے تو میں کبھی ادھر نہ آتا بلکہ گنڈا سنگھ والہ قصورلے جاتا‘‘۔ یہ سکول پرنسپل کے الفاظ تھے﴾ سوال یہ ہے کہ وہاں پر ایسی کیا چیز ہے جس کو دیکھنے کے لیے عوام پرٹکٹ لگا یا گیا؟ کیا فوجی بھائیوں کی حوصلہ افزائی پر بھی ٹکٹ لگے گا ؟ کبھی ایسا نہ ہو کل کو کسی فوجی کو دیکھنے کے لیے بھی یہ حکومت ٹکٹ لگا دے؟ کیونکہ ان کو تو پیسے سے غرض ہے خواہ وہ کیسے بھی آئے۔ میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں گنڈا سنگھ والہ ﴿قصور﴾ کے بارڈر پر بھی گیا تھا اور وہاں پر کوئی ٹکٹ نہیں اور واہگہ بارڈر سے زیادہ اچھا ماحول اور ادھر سے زیادہ فوجی پریڈکا اہتمام کیا جاتاہے۔ میرا سوال یہ ہے کیا پاکستان میں ہر کام پر ٹیکس ضروری ہے۔ جب کہ یہ سارا ایریا فوج کی نگرانی میں ہوتا ہے پھر بھی پارکنگ کے نام 80روپے لیے جاتے ہیں اور گنڈا سنگھ والہ میں گاڑیوں کی پارکنگ کی ذمہ داری بھی فوجی جوان خود کرتے ہیں۔ کل جب میں انڈیا کی عوام کا جوش و خروش دیکھ رہا تھا تو مجھے پاکستان کی حکومت اور ان کی ٹیم پر بہت دکھ ہوا کہ جہاں پر انڈیا کو نیچا دکھانے کے لیے حکومت کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دی جانی چاہییں وہاں پر عوام برائے نام ہوتی ہے اور اس کی وجہ واہگہ بارڈر کا ٹکٹ ہے۔ وہاں پر آئے ہوئے شہریوں سے جب میںنے﴿عقیل خان نمائندہ میرا پتوکی ڈاٹ کام ﴾لوگوں سے پوچھا تو بتایا گیا کہ پہلے بہت عوا م آتی تھی ادھر مگر جب سے ٹکٹ لگایا گیا ہے تب سے عوام نے کم آنا شروع کر دیا۔ میری چیف آف آرمی سٹاف اور حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ ادھر سے فوراًٹکٹ ختم کیا جائے اور عوام کو بھارت کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ آنا چاہیے تاکہ دشمن کے سامنے نعرہ تکبیر بلند ہو سکے۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج سکیں۔ اللہ پاکستان کو ہمیشہ قائم رکھے اور اس کا پرچم پوری دنیا میں سب سے اونچا ہو ۔ آمین

About the author

admin

Copyright © 2017. Powered by Paknewslive